عراق اور شام میں داعش کے فروغ کے عوامل
عراق اور شام کا داعش کی سرگرمیوں کے اہم مراکز میں تبدیل ہونا، ان دونوں ممالک میں موجود سیاسی، معاشرتی، معاشی اور سکیورٹی عوامل کے پیچیدہ باہمی تعامل کا نتیجہ تھا۔ اگرچہ یہ عوامل مختلف اوقات میں سامنے آئے، لیکن بالآخر یہ سب یکجا ہو گئے اور داعش کی جانب سے قائم کی گئی "خود ساختہ خلافت” کے جغرافیائی دائرۂ اقتدار کی بنیاد بنے۔ ان عوامل کو سمجھے بغیر داعش کے ظہور اور اس کی توسیع کے حقیقی اسباب کو درست طور پر نہیں سمجھا جا سکتا۔
صدام حسین کی حکومت کے خاتمے اور اس کے بعد امریکہ کی قیادت میں اتحادی افواج کے قبضے کے نتیجے میں عراق گہرے سیاسی تغیرات اور وسیع انتظامی و سکیورٹی بدانتظامی کا شکار ہو گیا۔ قابض حکام کے ابتدائی فیصلوں میں سے ایک عراقی فوج کو مکمل طور پر تحلیل کرنا اور حکومت و سرکاری اداروں سے بعث پارٹی کے ارکان کی وسیع پیمانے پر تطہیر تھا۔ یہ پالیسی، جو "بعثیوں کے اخراج کی پالیسی” کے نام سے مشہور ہوئی، ایک ہی جھٹکے میں ہزاروں سابق فوجی افسران اور سرکاری ملازمین کو بے روزگار کر گئی اور ایسے بحران کی بنیاد رکھ گئی جس کے اثرات کئی برسوں تک برقرار رہے۔
بعض رپورٹس کے مطابق، تقریباً ایک لاکھ بعثی اہلکار، جن میں صدام کے فدائی، صدارتی گارڈ، انٹیلی جنس اہلکار اور جنگ کا تجربہ رکھنے والے افسران بھی شامل تھے، اسی پالیسی کے باعث اپنی ملازمتوں سے محروم ہوئے۔ یہ افراد، جو عراق کے سکیورٹی ڈھانچے کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے تھے، اپنی ملازمتیں، آمدنی کے ذرائع اور سماجی حیثیت کھو بیٹھے اور رفتہ رفتہ حکومت مخالف مسلح گروہوں میں شامل ہوتے گئے۔
ان افراد میں "حجی بکر” سب سے زیادہ معروف تھا۔ وہ صدام کی انٹیلی جنس کا ایک کرنل تھا، جو بعد میں داعش میں شامل ہوا اور اس تنظیم کے فوجی امور کا اہم منصوبہ ساز بن گیا۔ اس نے داعش کے تنظیمی ڈھانچے کی تشکیل اور علاقوں پر قبضے کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور تنظیم میں اہم کردار ادا کیا۔ دستیاب دستاویزات کے مطابق، اس نے بعث پارٹی کے انٹیلی جنس اور سکیورٹی نظام کی طرز پر داعش کی نام نہاد "خلافت” کے انتظام کے لیے ایک مفصل منصوبہ تیار کیا تھا، جس میں تنظیمی ڈھانچے کے نقشے، ذمہ داران کی فہرست، ان کی ذمہ داریاں اور کسی ملک پر مرحلہ وار قبضے کی حکمت عملی شامل تھی۔
دوسری جانب، صدام کے اقتدار کے خاتمے کے بعد عراق کی حکومتوں نے اہل سنت کے خلاف امتیازی پالیسیاں اختیار کیں، جس سے سنی اکثریتی علاقوں میں محرومی اور ناانصافی کا شدید احساس پیدا ہوا۔ سیاسی اقتدار زیادہ تر شیعہ اور کرد جماعتوں کے ہاتھ میں چلا گیا، جبکہ الانبار، نینوا، صلاح الدین اور کرکوک جیسے صوبے بنیادی سرکاری سہولتوں سے بھی محروم رہے۔ غربت، محرومی، من مانی گرفتاریاں اور اجتماعی پھانسیاں عراق کے اہل سنت کے درمیان اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔
یہ صورتِ حال، جو شیعہ اور سنی کے درمیان دیرینہ مذہبی اختلافات کا نتیجہ تھی، تکفیری گروہوں کی نشوونما کے لیے نہایت سازگار ماحول ثابت ہوئی۔ اسی طرح اہل سنت کے بہت سے معتدل اور قوم پرست رہنما، جو اعتدال اور قومی یکجہتی کی آواز بلند کر سکتے تھے، دہشت گردانہ حملوں یا سکیورٹی کارروائیوں میں مارے گئے۔ ان کی عدم موجودگی نے انتہا پسند گروہوں کو موقع فراہم کیا کہ وہ عراق کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے میں وسیع اثر و رسوخ حاصل کر لیں۔
شام میں خانہ جنگی، جو مارچ 2011ء میں حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کے نتیجے میں شروع ہوئی، بہت جلد ایک بڑے انسانی اور سکیورٹی بحران میں تبدیل ہو گئی۔ شام میں داعش کو فروغ پانے کا سب سے اہم موقع حکومت مخالف وسیع عوامی احتجاج اور اس کے بعد ملک کے مشرقی اور شمالی علاقوں میں مرکزی حکومت کی عمل داری کے کمزور ہونے سے ملا۔ حکومت ان علاقوں پر اپنا کنٹرول کھو بیٹھی، جس کے بعد پہلے مختلف مسلح مخالف گروہ اور پھر انتہا پسند تنظیمیں وہاں قابض ہو گئیں۔ بعد ازاں رقہ کو داعش کی خود ساختہ خلافت کا دارالحکومت قرار دیا گیا۔
علویوں اور اہل سنت کے درمیان فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافے نے داعش کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ "اہل سنت کے دفاع” کے نعرے کے تحت ہزاروں افراد کو اپنی صفوں میں شامل کرے۔ دوسری طرف، خطے کے بعض ممالک حکومت کے خاتمے کے لیے مسلح مخالف گروہوں کی مالی اور عسکری مدد کر رہے تھے، لیکن ان امداد کا ایک بڑا حصہ رفتہ رفتہ داعش کے ہاتھ لگ گیا، جس سے اس تنظیم کی فوجی قوت غیر معمولی طور پر مضبوط ہو گئی۔
داعش، جو عراق میں شدید سکیورٹی دباؤ کا سامنا کر رہی تھی، 2013ء میں شام میں داخل ہو گئی۔ اس نے پہلے مشرقی علاقوں اور بعد ازاں رقہ پر قبضہ کر لیا۔ چونکہ نہ شام کی مرکزی حکومت اور نہ ہی مسلح مخالف گروہ داعش کو روکنے کی صلاحیت رکھتے تھے، اس لیے اس تنظیم نے مختصر مدت میں شام کے وسیع علاقے اپنے قبضے میں لے لیے اور عراق و شام کے درمیان اپنی زمینی راہداری کو مضبوط بنا لیا۔
داعش نے بینکوں، سرکاری ذخائر اور تیل کے کنوؤں کی لوٹ مار سے بھاری مالی وسائل اور اسلحہ حاصل کیا، جس کے نتیجے میں وہ دنیا کی سب سے زیادہ دولت مند اور تباہ کن تکفیری تنظیم بن گئی۔ اس طرح عراق اور شام، دونوں نے اپنے مخصوص سیاسی، سکیورٹی اور سماجی حالات کے باعث داعش کے فروغ کے لیے سازگار ماحول فراہم کیا، اور ان دونوں ممالک کے بحرانوں کے امتزاج نے معاصر تاریخ کی سب سے خطرناک تکفیری تنظیم کو جنم دیا۔




















































