افغانستان کے عوام کے تاریخی ادوار میں ۲۸ اسد صرف ایک تاریخی فتح کی یاد منانے کا دن نہیں، بلکہ اس قوم کی عزت، آزادی اور ناقابلِ شکست ارادے کی زندہ اور لازوال علامت ہے جس نے تسلط اور جبر کے سامنے کبھی سر نہیں جھکایا۔ یہ دن ان نسلوں کی یاد تازہ کرتا ہے جنہوں نے اپنی عزت و وقار کو ایمان، ثقافت اور قومی غیرت کے ساتھ اس طرح جوڑ رکھا تھا کہ انہوں نے پوری تاریخ میں عملاً ثابت کیا کہ آزادی اور خودمختاری ان کے لیے محض سیاسی نعرہ نہیں، بلکہ ان کی شناخت اور زندگی کا جزو لا ینفک ہے۔
یہی تاریخی اور قابلِ قدر جذبہ اس وقت عملی شکل میں سامنے آیا جب افغانستان نے ۲۸ اسد ۱۲۹۸ ہجری شمسی کو برطانوی استعمار کے خلاف برسوں کی جدوجہد اور مزاحمت کے بعد اپنی سیاسی آزادی حاصل کی۔ یہ فتح کسی ایک دن اور ایک جنگ کا نتیجہ نہیں تھی، بلکہ برسوں کی مزاحمت، قربانیوں، جانفشانیوں اور اس پختہ ارادے کا ثمر تھی جس کی جڑیں اس سرزمین کے لوگوں میں گہری تھیں۔ افغانستان کے عوام اس وقت کی ایک عظیم استعماری طاقت کے سامنے ڈٹ گئے اور محدود وسائل، لیکن بلند حوصلے اور پختہ ارادے کے ساتھ اپنے مقدر کا فیصلہ خود کرنے کے حق کا دفاع کیا۔ انہوں نے ثابت کیا کہ ایک قوم ایک بڑی اور طاقتور فوجی و سیاسی قوت کے سامنے بھی آزادی اور خودمختاری کے لیے مضبوطی سے کھڑی ہو سکتی ہے۔
اس جذبے کو افغانوں کے دینی اور ثقافتی عقائد سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔
اسلام نے انسان کو عزت و کرامت عطا کی اور اسے ارادے، اختیار اور ذمہ داری کا مالک قرار دیا ہے۔ اسی لیے اس سرزمین کے دینی اور ثقافتی ماحول میں ذلت، غلامی اور ظالمانہ بیرونی حکمرانی کو قبول کرنا کبھی قابلِ قبول نہیں تھا۔ بہت سے افغانوں کے لیے اپنی سرزمین اور آزادی کا دفاع صرف ایک سیاسی ذمہ داری نہیں تھا، بلکہ یہ دینی عقائد، اخلاقی اقدار اور اپنی سرزمین و ثقافت کے ساتھ گہری وابستگی کے احساس سے بھی جڑا ہوا تھا۔ ایمان، عزت اور آزادی کے درمیان اسی گہرے تعلق نے تاریخ کے بہت سے ادوار میں مزاحمت اور استقامت کے لیے بڑی قوت پیدا کی ہے۔
افغانستان کے عوام نے تین افغان۔انگریز جنگوں میں برطانوی سلطنت کے ساتھ بے مثال بہادری اور پختہ عزم کے ساتھ ایک بڑی استعماری طاقت کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے ان جنگوں میں ثابت کیا کہ اس سرزمین کو آسانی سے غیروں کے تسلط کا میدان نہیں بنایا جا سکتا۔ وہ نسلیں جو اپنی آزادی کے دفاع کے لیے اپنی جان، مال، گھر اور اپنے خاندانوں کے سکون کی قربانی دینے کے لیے تیار تھیں، اس بات پر آمادہ نہ ہوئیں کہ اپنی عزت اور آزادی کو عارضی سلامتی اور آسودگی کے بدلے فروخت کر دیں۔ یہی جذبہ تھا جس نے بالآخر افغانستان کی سیاسی آزادی کو دوبارہ مستحکم کرنے کی راہ ہموار کی اور ۲۸ اسد کو اس سرزمین کی تاریخ کے روشن ترین صفحات میں شامل کر دیا۔
لیکن افغانوں کی آزادی کی خواہش کی داستان برطانوی استعمار کے خاتمے کے ساتھ ختم نہیں ہوئی۔ کئی دہائیوں بعد، جب سابق سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تو وہی جذبہ ایک بار پھر نمایاں ہوا۔ قومی، علاقائی اور سماجی اختلافات کے باوجود افغان ایک عالمی طاقت کی طاقتور ترین افواج میں سے ایک کے سامنے ڈٹ گئے اور برسوں مزاحمت کرتے رہے۔ یہ سخت اور بھاری اخراجات والی جنگ، جو وسیع پیمانے پر تباہی اور بڑی تعداد میں لوگوں کی ہلاکت کے ساتھ جاری رہی، بالآخر سوویت افواج کے انخلا پر اختتام پذیر ہوئی۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ کسی بیرونی طاقت کی فوجی موجودگی ایک مدت تک جاری رہ سکتی ہے، لیکن اس موجودگی کو دائمی تسلط میں تبدیل کرنا افغانستان کی سماجی اور قومی مزاحمت سے ٹکرا جاتا ہے۔
عصرِ حاضر میں بھی تاریخ اسی تجربے کے دوبارہ رونما ہونے کی گواہ بنی۔ امریکہ اور اس کے اتحادی ۲۰۰۱ کے بعد افغانستان میں داخل ہوئے اور ان کی فوجی موجودگی تقریباً دو دہائیوں تک جاری رہی۔
وقت گزرنے کے ساتھ اس موجودگی کے خلاف مزاحمت بھی وسیع ہوتی گئی اور بالآخر ۲۰۲۱ میں امریکی افواج اور ان کے عالمی اتحادی افغانستان سے رسوائی کے ساتھ نکل گئے۔ ۲۴ اسد ۱۴۰۰ ہجری شمسی افغانستان کی معاصر سیاسی تاریخ میں اس بیرونی فوجی موجودگی کے خاتمے اور قومی حاکمیت کے دوبارہ مستحکم ہونے کی اہم علامتوں میں شمار ہوتا ہے؛ وہ دن جو افغانستان کی سیاسی یادداشت میں آزادی اور فتح کے اہم دنوں میں شمار ہوتا ہے۔
ان تمام تاریخی تجربات کے ساتھ ایک حقیقت سب سے زیادہ واضح ہے: کوئی بھی بیرونی طاقت افغانستان پر اپنا تسلط ہمیشہ کے لیے مسلط نہ کر سکی۔ ممکن ہے کسی ملک کا قبضہ مختصر یا طویل مدت تک جاری رہے، لیکن عوام کی سماجی اور ثقافتی قبولیت کے بغیر دائمی تسلط قائم کرنا انتہائی مشکل ہے۔ افغانستان میں دینی عقائد، سماجی ڈھانچے، آزادی پسندی کی ثقافت اور بیرونی مداخلت کے خلاف گہری حساسیت ہمیشہ ایسی کوششوں کے مقابلے میں اہم عوامل رہے ہیں۔
افغانستان میں بڑی طاقتوں کی شکست استعمار پسندوں اور تسلط کے خواہاں قوتوں کے لیے ایک واضح تاریخی سبق ہونی چاہیے۔ اس سرزمین کے دین دار اور ثقافت پسند لوگ آزادی اور خودمختاری کو اپنی زندگی کی بنیادی اقدار میں شمار کرتے ہیں اور آسانی سے اس بات پر آمادہ نہیں ہوتے کہ اپنے مقدر کا اختیار دوسروں کے حوالے کر دیں۔ برطانیہ، سوویت یونین اور امریکہ کے تجربات، جن میں سے ہر ایک مختلف تاریخی حالات اور مخصوص صورتِ حال میں رونما ہوا، نے واضح کر دیا ہے کہ صرف فوجی طاقت کسی قوم کے ارادے کو ہمیشہ کے لیے شکست نہیں دے سکتی۔
لیکن ۲۸ اسد صرف ماضی سے وابستہ دن نہیں؛ یہ آج اور مستقبل کے لیے بھی ایک اہم پیغام رکھتا ہے۔ آزادی ایسا ورثہ نہیں کہ ایک نسل اسے حاصل کرے اور آنے والی نسلیں بغیر کسی کوشش کے اس سے مستفید ہوتی رہیں۔ آزادی کا تحفظ شعور، اتحاد، علم، معاشی قوت، خود اعتمادی اور ذمہ داری کا تقاضا کرتا ہے۔
جو قوم آزاد رہنا چاہتی ہے، اسے اپنی سیاسی آزادی کے دفاع کے ساتھ ساتھ ایک مضبوط، باشعور اور باصلاحیت معاشرہ تشکیل دینے کی بھی کوشش کرنی چاہیے۔ اسی لیے ۲۸ اسد تقویم میں محض ایک سادہ تاریخ نہیں، بلکہ اس قوم کی عزت اور آزادی کی ولولہ انگیز داستان ہے جو بیرونی تسلط کے خلاف کئی بار کھڑی ہوئی اور اپنے اختیار کے تحفظ کے لیے بھاری قیمتیں ادا کیں۔ یہ دن موجودہ نسل کو یاد دلاتا ہے کہ آزادی آسانی سے حاصل نہیں ہوتی اور خودمختاری صرف غیروں کو نکال باہر کرنے سے مکمل نہیں ہوتی؛ بلکہ ایک باشعور، صاحبِ ایمان، باصلاحیت اور ذمہ دار نسل کی تربیت اور تشکیل کے ذریعے پائیدار بنتی ہے۔
یہ سرزمین ایسی قوم کا گھر ہے جو عزت کو پہچانتی ہے، آزادی کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور نہیں چاہتی کہ اپنے مقدر کو غیروں کے ہاتھوں میں دیکھے۔ اس تاریخی ورثے کو اسی بہادری، پختہ ارادے اور ایمان کے ساتھ ایک نسل سے دوسری نسل تک منتقل کیا جانا چاہیے۔




















































