اسلامی اقدار کا استحکام اور عوامی حقوق کی بحالی
امن کے استحکام اور خود کفیل معیشت کی جانب اہم اقدامات کے بعد، ان شعبوں میں سے ایک جن پر امارت اسلامیہ خصوصی توجہ دے رہی ہے وہ قانون کی بالادستی کا استحکام اور اسلامی شریعت کی بنیاد پر انصاف کی فراہمی ہے۔ اس نظام کے نقطۂ نظر سے، انصاف صرف کسی مقدمے کی تفتیش اور عدالت میں فیصلہ صادر کرنے تک محدود نہیں، بلکہ یہ اسلامی نظام کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے اور عوام کے حقوق کے تحفظ، ظلم کی روک تھام اور معاشرتی نظم کے استحکام کا ذریعہ ہے۔ اسی وجہ سے شرعی عدالتوں کو مضبوط بنانا، بدعنوانی اور اراضی پر قبضے کے خلاف جدوجہد، لوگوں کے دعووں کی تحقیقات اور صلح و مصالحت کے ذریعے تنازعات کا حل، اس دور کے اہم اقدامات میں شامل ہیں۔
اس تبدیلی کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے گزشتہ نظام کی عدالتی اور قضائی صورتِ حال کا ذکر بھی ضروری ہے۔ اس دور میں عدالتی اور قضائی نظام بدعنوانی، سیاسی مداخلت، مقدمات کی تحقیقات میں تاخیر اور بااثر افراد کے اثر و رسوخ کا شکار تھا۔ بعض علاقوں میں سرکاری اور اوقافی اراضی پر قبضہ ایک سنگین مسئلہ بن چکا تھا اور بعض بااثر افراد اور مقامی کمانڈروں نے عوامی املاک پر قبضہ جما رکھا تھا۔ اس صورتِ حال نے سرکاری اداروں کے حوالے سے عوام کا اعتماد کم کر دیا تھا اور بعض معاملات میں لوگوں کو اپنے تنازعات کے حل کے لیے غیر رسمی اداروں اور حتیٰ کہ پُرتشدد طریقوں کی طرف جانے پر مجبور کر دیا تھا۔
امارت اسلامیہ نے فتح اور نظام کے استحکام کے بعد کوشش کی کہ شریعت کی بنیاد پر عدالتی ڈھانچہ قائم کرکے اس صورتِ حال کو تبدیل کیا جائے۔ مرکز اور صوبوں میں عدالتوں کو فعال کرنا، حقوقی اور جزائی مقدمات کی تحقیقات، خاندان، وراثت، طلاق اور حضانت سے متعلق مقدمات پر توجہ اور صلح و مصالحت کے ذریعے تنازعات کے حل پر زور، اس عمل کا حصہ ہیں۔ اسلامی ثقافت میں اصلاحِ ذات البین اور دشمنیوں و تنازعات کا خاتمہ ایک خصوصی مقام رکھتا ہے، لہٰذا اس طریقے کو فروغ دینا معاشرتی سکون کے استحکام اور لوگوں کے درمیان دشمنیوں کو کم کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔
عوامی حقوق کی بحالی کی نمایاں مثالوں میں سے ایک سرکاری اور اوقافی زمینوں پر قبضے کے خلاف جدوجہد ہے۔ زمینوں پر قبضے کی روک تھام اور قبضہ شدہ زمینوں کی واپسی کے کمیشن کی جانب سے مختلف صوبوں میں ایسی زمینوں کی شناخت، تعیین اور واپسی کا عمل مستقل جاری ہے۔ ایسی زمینوں کو واپس حاصل کرنا جو برسوں سے افراد اور بااثر لوگوں کے قبضے میں تھیں، عوامی املاک کے تحفظ کے ساتھ ساتھ عوامی حقوق کے اعتبار سے لوگوں اور بیت المال سے متعلق املاک کو ان کے اصل مقام پر واپس لانا ہے۔ اس عمل کا ایک واضح پیغام بھی ہے کہ عوامی ملکیت کو مخصوص افراد اور گروہوں کے ذاتی مفاد کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔
ان اقدامات کے ساتھ ساتھ وزارتِ عدلیہ اور دیگر متعلقہ اداروں نے عوام کو قانونی خدمات اور عوامی آگاہی کے پروگرام بھی فراہم کیے ہیں۔ ضرورت مند لوگوں کو قانونی خدمات فراہم کرنا اور انہیں ان کے شرعی و قانونی حقوق اور ذمہ داریوں سے آگاہ کرنا، جیسا کہ ملک کے سربراہ کے احکامات، سفارشات اور بیانات میں لوگوں تک بار بار پہنچایا گیا ہے، عوام کے لیے انصاف تک رسائی آسان بنا سکتا ہے۔ ان سرگرمیوں کی تفصیلی تعداد وزارتوں، عدالتوں اور ذمہ دار اداروں کی سرکاری رپورٹس میں موجود ہے اور متعلقہ ذمہ داران نے مختلف مواقع پر انہیں عوام کے ساتھ شیئر بھی کیا ہے۔
ان اہم اور تعمیری اقدامات کے باوجود، بعض مخالف ذرائع ابلاغ، تخریب کار افراد اور دشمنی پر مبنی حلقے کوشش کرتے ہیں کہ امارت اسلامیہ کے عدالتی اور قضائی نظام کو مکمل طور پر انصاف اور قانون پسندی سے عاری ظاہر کریں۔ ان کے دعووں میں سے ایک یہ ہے کہ افغانستان میں کوئی فعال عدالتی نظام موجود نہیں، حالانکہ عدالتوں کی روزمرہ سرگرمیاں، عوام کے مقدمات کی تحقیقات، شرعی احکام اور دستاویزات کا اجرا اور اراضی پر قبضے کے مقدمات کی پیروی اس دعوے سے مطابقت نہیں رکھتی۔
ایک اور دعویٰ یہ ہے کہ عدالتی نظام مکمل طور پر سیاسی ملاحظات کے تابع ہے۔ اس دعوے کا منصفانہ جائزہ اسی وقت لیا جا سکتا ہے جب جمہوریہ کے دور کے عدالتی نظام کی حقیقی صورتِ حال کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے، وہ دور جو خود بدعنوانی، سیاسی دباؤ اور بااثر افراد کے اثر و رسوخ کے حوالے سے وسیع الزامات کا سامنا کرتا رہا۔ امارت اسلامیہ کا دعویٰ ہے کہ اس نے شریعت کی بنیاد پر کوشش کی ہے کہ مقدمات کی سماعت کے لیے شرعی احکام اور سرکاری ضوابط کو بنیادی معیار قرار دے اور غیر ملکیوں اور بااثر افراد کی مداخلت کے امکانات کو محدود کرے۔
ایک اور دعویٰ خواتین اور معاشرے کے مختلف طبقات کے حقوق کو نظر انداز کرنے سے متعلق ہے۔ امارت اسلامیہ کا سرکاری مؤقف یہ ہے کہ اسلامی شریعت کے دائرے میں ملک کے شہریوں کے حقوق محفوظ ہیں اور عدالتیں پابند ہیں کہ خاندانی اور دیگر شرعی حقوق سے متعلق مقدمات کی اسلامی احکام کے مطابق تحقیقات کریں۔ لہٰذا عدالتی نظام کی کارکردگی کے بارے میں فیصلہ عدالتوں کی حقیقی سرگرمی، دستاویزات اور معتبر رپورٹس کی بنیاد پر ہونا چاہیے، نہ کہ صرف مفاد پرست افراد کے سیاسی بیانیوں اور مخالف ذرائع ابلاغ کے پروپیگنڈے کی بنیاد پر۔
البتہ عدالتی اور قضائی نظام، ہر دوسرے ڈھانچے کی طرح، مزید شفافیت، مقدمات کی فوری تحقیقات اور عوام کے لیے انصاف تک آسان رسائی کے حوالے سے اب بھی بہت سی کوششوں کا محتاج ہے۔ تاہم چیلنجز کی موجودگی اس بات کا سبب نہیں بننی چاہیے کہ انجام دی جانے والی تمام سرگرمیوں کو نظر انداز کر دیا جائے۔ بنیادی اہمیت اس بات کی ہے کہ عوامی حقوق بااثر افراد کے قبضے سے واپس حاصل کیے جائیں، عوامی املاک کا تحفظ کیا جائے، بدعنوانی کم کی جائے اور لوگ بغیر سفارش، رشوت اور خوف کے انصاف تک رسائی حاصل کر سکیں۔ اس نقطۂ نظر سے اسلامی اقدار کا استحکام اور عوامی حقوق کی بحالی صرف امارت اسلامیہ کے نظام کا ایک انتظامی پروگرام نہیں، بلکہ اسے معاشرتی استحکام، عوامی اعتماد اور افغانستان کے مستقبل کے بنیادی ستونوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ امارت اسلامیہ نے بھی اسی امر کو اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔




















































