موجودہ دور میں پاکستان کی معاشی حالت کو دیکھ کر یوں لگتا ہے, جیسے کوئی پیاسا شخص صحرا میں سراب کے پیچھے بھاگ رہا ہو۔ ملک اس وقت بیسویں صدی کے سب سے بڑے معاشی بحران کی زد میں ہے، جہاں پرانے قرضوں کی اقساط اور ان کا سُود چکانے کے لیے مستقل نئے قرضوں کی تلاش حکمرانوں کا واحد ہدف بن چکی ہے۔
اس مایوس کن صورتِ حال میں ریاستِ پاکستان اپنی بقا کی جنگ لڑنے کے لیے بیک وقت واشنگٹن، بیجنگ اور ریاض کے دروازوں پر دستک دے رہی ہے، لیکن ہر دروازے سے ملنے والی کہانی اور تلخ حقائق پاکستانی معیشت کی اندرونی کمزوری کو بے نقاب کر رہے ہیں۔
ملکی معیشت پر پڑنے والے تازہ ترین جھٹکوں کی شروعات چین کے ساتھ پیدا ہونے والے تنازع سے ہوتی ہے۔
پاکستان نے سی پیک کے تحت بجلی بنانے والے چینی کارخانوں سے درخواست کی تھی کہ ‘ادائیگیوں میں تاخیر کی وجہ سے اُن پر لگنے والے 172 ارب روپے کے بھاری سرچارجز یعنی جرمانے معاف کر دیے جائیں۔’
حکومت کو امید تھی کہ ‘سدا بہار دوستی’ کا رشتہ اس مالی بوجھ کو ہلکا کر دے گا، لیکن بیجنگ نے کاروباری اصولوں اور معاہدوں کی پاس داری کا حوالہ دیتے ہوئے اس درخواست کو واضح طور پر مسترد کر دیا۔ اس انکار نے پاکستان کو ایک نئے امتحان میں ڈال دیا۔ کیوں کہ ان کمپنیوں کے کل بقایاجات 423 ارب روپے سے تجاوز کر چکے ہیں اور اب اس بھاری رقم کا بوجھ بالآخر پاکستانی عوام کو بجلی کے مہنگے بلوں کی صورت میں اٹھانا پڑے گا۔
چینی انکار کے بعد پیدا ہونے والے اس خلا کو پُر کرنے کے لیے حکومتِ پاکستان نے روایتی طور پر سعودی عرب کا رخ کیا، لیکن اس بار مانگی جانے والی رعایت غیر معمولی ہے۔ پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ کے جنگی حالات اور عالمی منڈی میں تیل کی ممکنہ گرانی کے بہانے کا سہارا لیتے ہوئے سعودی عرب سے 6.7 ارب ڈالر کی رعایت پر مبنی ‘آئل فنانسنگ فیسلٹی’ مانگی ہے۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ جہاں ماضی میں پاکستان اُدھار تیل پر 4 سے 6 فیصد تک سُود ادا کرتا رہا ہے، وہاں اِس بار محض 1 فیصد کی علامتی شرحِ سود پیش کی گئی ہے۔
یہی نہیں… بلکہ رقم کی واپسی کے لیے ایک دہائی سے زائد یعنی 15 سال کی طویل مدت مانگی گئی ہے، جس میں پہلے 5 سال تک ایک روپیہ بھی واپس نہ کرنے کی شرط نما درخواست شامل ہے۔ یہ ڈیل اگرچہ پاکستان کو چند سال کی سانس لینے کی مہلت دے سکتی ہے، لیکن یہ اس بات کا اعتراف بھی ہے کہ ایک طرف ملک اگلی ڈیڑھ دہائی تک تیل کی قیمتیں فوری ادا کرنے کے قابل نہیں رہے گا اور دوسری جانب پٹرولیم مصنوعات کی بھاری قیمتیں بھی پاکستان کے عوام کی برداشت کو ماپنے کے لیے تیار بیٹھی ہیں۔
ان سب کے درمیان سب سے اچھوتی اور بحث طلب کہانی امریکا سے جڑی ہوئی ہے۔ پاکستان نے امریکی وزارتِ خزانہ سے 10 ارب ڈالر کا ایک نادر فنڈ مانگا ہے۔ اس بھاری رقم کی درخواست کے پیچھے پاکستان کا کوئی معاشی معجزہ نہیں، بلکہ واشنگٹن کی شطرنج پر کھیلی جانے والی سفارت کاری ہے۔
پاکستان کے مطابق کہ اُس نے امریکا اور ایران کے درمیان حالیہ شدید کشیدگی میں ایک ‘پوسٹ مین’ یا سہولت کار کا کردار ادا کیا اور خفیہ چینلز کے ذریعے دونوں طاقتوں کے پیغامات ایک دوسرے تک پہنچائے۔ اب حکومت اس ‘سفارتی خدمات’ کے بدلے 10 ارب ڈالر کا انعام حاصل کرنا چاہتی ہے، تاکہ آئی ایم ایف کے سخت ترین شکنجے سے کسی حد تک آزادی حاصل کی جا سکے۔
واشنگٹن کے حلقوں سے اگرچہ مثبت اشارے مل رہے ہیں، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ اور تلخی کم ہونے کے بجائے روز بروز بڑھتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے یہ فنڈ ابھی تک کاغذوں سے باہر نہیں نکل سکا ہے۔
سیاسی اور معاشی مبصرین کے لیے یہ پوری صورتِ حال جتنی تشویش ناک ہے، اتنی ہی مضحکہ خیز بھی ہے۔
ایک ایسا نظام… جو خود اندرونی طور پر کھوکھلا ہو، جو بیرونی امداد اور معافیوں کے سہارے چل رہا ہو… وہ دنیا کی دو بڑی جنگجو طاقتوں کے درمیان ‘اہم ثالث’ ہونے کا دعویٰ کیسے کر سکتا ہے؟
سچ تو یہ ہے کہ امریکا جیسے شاطر ممالک پاکستان کو کسی مخلصانہ دوستی یا اس کی سفارتی اہمیت کی وجہ سے نہیں، بلکہ محض ‘انگیج’ رکھنے کے لیے اسٹیج پر کھڑا کیے ہوئے ہیں۔ واشنگٹن بخوبی جانتا ہے کہ اگر پاکستان کو بالکل تنہا چھوڑ دیا گیا تو وہ مکمل طور پر چین کے معاشی بلاک کا حصہ بن جائے گا اور گوادر جیسی اہم بندرگاہیں امریکی مفادات کے لیے کارآمد نہیں رہیں گی۔
مزید برآں خطے میں نام نہاد دہشت گردی پر نظر رکھنے اور جغرافیائی محلِ وقوع کے لیے پاکستان کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔ اسی لیے بڑی طاقتیں پاکستان کو اتنا گرنے بھی نہیں دیتیں کہ وہ مر جائے اور اتنا اٹھنے بھی نہیں دیتیں کہ وہ دوسروں کو آنکھیںں دِکھانا تو دُور… اپنے پیروں پر ہی کھڑا ہو سکے۔
بین الاقوامی سیاست اور معیشت کا یہ بے رحم کھیل ثابت کرتا ہے کہ دنیا میں کوئی رشتہ مستقل نہیں ہوتا، صرف مفادات مستقل ہوتے ہیں۔ کوئی بھی ملک پاکستان کو اس کے اسلامی تشخص یا پرانی تاریخ کی بنیاد پر مفت ڈالرز فراہم نہیں کرے گا۔
جب تک پاکستان اپنی برآمدات نہیں بڑھاتا، اپنے اندرونی ٹیکس کے نظام کو درست نہیں کرتا، فوجی بیرکوں اور سیاسی اکھاڑوں میں ہونے والی کرپشن ختم نہیں کی جاتی اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ نہیں کرتا… وہ اسی طرح بڑی طاقتوں کی سیاسی بساط پر ایک مُہرے کے طور پر استعمال ہوتا رہے گا۔
کاسمیٹک سفارت کاری اور اُدھار کے تیل سے عارضی چراغ تو جلائے جا سکتے ہیں، لیکن ملکی ترقی کا مستقل سورج طلوع نہیں کیا جا سکتا۔



































