ماتریدیہ اور قبروں سے متعلق عقائد کی نسبت کا مسئلہ
ماتریدیہ پر تنقید کرنے والے بعض حلقے یہ کوشش کرتے ہیں کہ بریلوی مکتبِ فکر کے بعض حلقوں میں قبروں سے متعلق پائے جانے والے اختلافی عقائد اور رسوم و رواج کو تمام ماتریدیہ کی طرف منسوب کر دیا جائے۔
اس نوعیت کا استدلال علمی دیانت اور انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے؛ کیونکہ کسی فکری مکتب کے بعض پیروکاروں یا گروہوں کے مخصوص نظریات کو پورے مکتب کا متفقہ عقیدہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔
محض ماتریدی نسبت کی بنیاد پر ماتریدیہ اور طالبان کو قبروں سے متعلق مخصوص عقائد کا پیروکار قرار دینا درست نہیں۔ جس طرح بعض ظالم حکمرانوں کے حامی اور درباری علماء اگر سلفیت سے وابستگی کا دعویٰ کریں تو ان کے افکار و اعمال کی ذمہ داری پورے سلفی مکتبِ فکر پر عائد نہیں کی جا سکتی، اسی طرح بریلوی مکتبِ فکر کے بعض حلقوں کے مخصوص عقائد کو بھی تمام ماتریدیہ کی طرف منسوب نہیں کیا جا سکتا۔
عدل و انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ ہر فکری مکتب کے عقائد کو اس کے معتبر علمی مصادر اور مستند علماء کی تصریحات کی روشنی میں سمجھا جائے، نہ کہ اس سے وابستہ بعض افراد کے افکار و اعمال کو بنیاد بنا کر پورے مکتب کے بارے میں حکم صادر کر دیا جائے۔
کیا ماتریدی عقیدہ کفر پر مبنی ہے؟
ماتریدی عقیدے کے کفر پر مبنی ہونے کا عمومی دعویٰ ضروری شرعی دلائل سے محروم ہے؛ کیونکہ ماتریدی علماء اسلام کے بنیادی ارکان، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت و ختمِ نبوت، قرآنِ کریم کی حقانیت اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔
اسلامی شریعت میں تکفیر نہایت حساس حکم ہے، جس کا تعلق کسی مسلمان کی دینی حیثیت کے بارے میں فیصلہ کرنے سے ہے۔ اسی لیے شریعت نے مسلمانوں کی تکفیر کے معاملے میں بے احتیاطی اور شرعی دلیل کے بغیر کسی پر کفر کا حکم لگانے سے سختی کے ساتھ منع کیا ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«أَيُّمَا رَجُلٍ قَالَ لِأَخِيهِ يَا كَافِرُ، فَقَدْ بَاءَ بِهَا أَحَدُهُمَا». (البخاري، حدیث: ۶۱۰۴)
ترجمہ: جو شخص اپنے(مسلمان) بھائی سے کہے: اے کافر! تو یہ بات ان دونوں میں سے کسی ایک کی طرف ضرور لوٹتی ہے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَىٰ إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا﴾ (النساء: ۹۴)
ترجمہ: اور جو شخص تمہارے سامنے سلامتی کا اظہار کرے، اسے یہ نہ کہو کہ تم مؤمن نہیں ہو۔
ان شرعی ہدایات کی روشنی میں کسی مسلمان یا مسلمانوں کے کسی گروہ کی تکفیر محض مسلکی نسبت، کلامی اختلاف یا مخالفین کے دعووں کی بنیاد پر نہیں کی جا سکتی۔
کسی معین شخص کی تکفیر کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اس کے متعلقہ قول یا فعل کا شرعی حکم پوری تحقیق کے ساتھ معلوم کیا جائے، پھر تکفیر کی شرائط کے پورا ہونے اور اس کے موانع کے نہ پائے جانے کو پیشِ نظر رکھا جائے۔ جہالت، معتبر تأویل، اکراہ اور دیگر شرعی عذر، مسئلے کی نوعیت کے مطابق، اس بحث میں اہمیت رکھتے ہیں، جن کی جانچ اور تحقیق اہلِ علم کی ذمہ داری ہے۔
اس طرح کسی قول یا عقیدے پر کفر کا حکم لگانا، اسے بدعت قرار دینا اور کسی معین شخص پر حکمِ کفر کا اطلاق کرنا الگ الگ شرعی مباحث ہیں۔ لہٰذا محض کلامی اختلافات یا مسلکی نسبت کی بنیاد پر ماتریدی علماء اور اس عقیدے کے پیروکاروں کی عمومی تکفیر کا کوئی شرعی جواز نہیں۔
امارتِ اسلامیہ اور طالبان کی تکفیر کا دعویٰ اور اس کا شرعی جائزہ
داعشی خوارج اور بعض دیگر تکفیری گروہ امارتِ اسلامیہ اور طالبان کی تکفیر کے لیے ان کی دیوبندی نسبت اور ماتریدی عقیدے کو بطورِ دلیل پیش کرتے ہیں، حالانکہ محض یہ علمی اور اعتقادی نسبتیں تکفیر کے لیے شرعی دلیل نہیں بن سکتیں۔
اس سلسلے میں یہ حقیقت بھی قابلِ ذکر ہے کہ افغانستان کے عام عوام اور طالبان کی اکثریت ان پیچیدہ کلامی مباحث اور اعتقادی اختلافات کی جزئیات سے واقف نہیں، نہ ہی انہیں ان باریک مسائل سے کوئی خاص دلچسپی ہے۔ وہ عموماً اپنے علماء و مشائخ کے علمی اور اعتقادی منہج کی پیروی کرتے ہیں، بغیر اس کے کہ تمام کلامی اختلافات کی تفصیلات سے آگاہ ہوں۔
تاہم طالبان کے بعض مخالفین انہی کلامی اختلافات کو غیر معمولی طور پر ہوا دیتے ہیں، ان میں مبالغہ آرائی کرتے ہیں اور انہیں تکفیر اور تفرقہ پیدا کرنے کا ذریعہ بناتے ہیں۔
طالبان کے اعتقادی طرزِ عمل کے بارے میں یہ بات بھی اہم ہے کہ وہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ، امام ابن القیم رحمہما اللہ اور امت کے دیگر اکابر علماء کی توہین نہیں کرتے، بلکہ ان بزرگوں کے اقوال اور علمی رہنمائی طالبان کے سرکاری رسائل اور علمی مراجع میں پہلے بھی نقل کی جاتی رہی ہے اور آج بھی نقل کی جاتی ہے۔
اسی طرح طالبان کا مؤقف یہ ہے کہ محض سلفی عقیدہ رکھنا بذاتِ خود کسی سزا یا تعاقب کا سبب نہیں بنتا، اور وہ صرف مذہبی یا مسلکی اختلاف کی بنیاد پر سلفیوں کے عقائد، مدارس اور مساجد میں مداخلت نہیں کرتے۔ البتہ جب بعض حلقے طالبان کی تکفیر کرتے ہیں، یا ان کے خلاف لوگوں کو اکساتے اور مقابلے کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں، تو طالبان ان کے خلاف کارروائی کا مؤقف اختیار کرتے ہیں۔
لہٰذا یہ عمومی الزامات کہ طالبان محض سلفی عقیدہ رکھنے کی وجہ سے، کسی جرم کے بغیر، سلفیوں کو قتل کرتے اور ظلم و ستم کا نشانہ بناتے ہیں، مخصوص اور معتبر شواہد پیش کیے بغیر قابلِ قبول نہیں۔
افغانستان میں امارتِ اسلامیہ کے دوبارہ برسرِ اقتدار آنے کے بعد، سلفی جماعتوں نے بھی امارتِ اسلامیہ سے بیعت کی ہے اور اس طرح موجودہ نظام کے ساتھ تعاون کا اظہار کیا ہے۔ ان جماعتوں اور امارتِ اسلامیہ کے درمیان اچھے تعلقات اور باہمی اعتماد کا فروغ اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ فقہی اختلافات کے باوجود مسلمان مشترکہ اسلامی اقدار، باہمی احترام اور افہام و تفہیم کی بنیاد پر ایک دوسرے کے ساتھ پُرامن اور تعمیری تعلقات قائم کر سکتے ہیں۔
امارتِ اسلامیہ اور سلفی جماعتیں اسلام کے بنیادی عقائد، قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی کی حقانیت اور امتِ مسلمہ کے اتحاد پر یقین رکھتی ہیں۔ لہٰذا ان کے درمیان موجود علمی اور کلامی اختلافات کو دشمنی، تکفیر اور باہمی انتشار کا ذریعہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔
امتِ مسلمہ کا مفاد بھی اسی بات کا تقاضا کرتا ہے کہ مختلف علمی اور اعتقادی مکاتبِ فکر کے پیروکار اختلافات کو مزید گہرا کرنے کے بجائے اپنی مشترکہ دینی اقدار پر زور دیں، بے بنیاد الزامات اور تکفیری پروپیگنڈے کا سدِباب کریں اور اخوت، اتحاد اور باہمی اعتماد کی فضا کو مضبوط بنائیں۔
اسلامی تاریخ کی مثالیں اور اعتقادی اختلافات کے بارے میں انصاف کا تقاضا
امتِ مسلمہ کے بے شمار جلیل القدر علماء اشعری مکتبِ فکر سے وابستہ رہے ہیں، جن میں امام نووی، حافظ ابن حجر عسقلانی اور عزالدین بن عبدالسلام رحمہم اللہ جیسے نامور علماء شامل ہیں۔ اسی فکری مکتب سے تعلق رکھنے والے ممتاز حکمرانوں اور فوجی سپہ سالاروں نے بھی اسلامی تاریخ میں عظیم خدمات انجام دی ہیں اور بڑی بڑی فتوحات حاصل کی ہیں۔
ان شخصیات میں سلطان صلاح الدین ایوبی کا نام بطورِ خاص قابلِ ذکر ہے۔ وہ عظیم فاتح جس نے تقریباً نو دہائیوں کی صلیبی حکمرانی کے بعد بیت المقدس کو آزاد کرایا۔ آج بھی علماء، مؤرخین، شعراء اور اہلِ قلم ان کی اس عظیم تاریخی خدمت کو فخر اور تحسین کے ساتھ یاد کرتے ہیں، حالانکہ سلطان صلاح الدین ایوبی اشعری عقیدے کے پُرجوش حامی تھے اور اپنی سلطنت کے زیرِ نگیں علاقوں، بالخصوص مصر میں اس عقیدے کی ترویج پر خصوصی توجہ دیتے تھے۔
دوسری جانب سلطنتِ عثمانیہ کے عظیم فرمانروا سلطان محمد فاتح حنفی اور ماتریدی علمی روایت سے وابستہ مشہور تاریخی شخصیات میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی فتوحات، عسکری قیادت اور تاریخی خدمات آج بھی اعتراف اور تحسین کے لائق سمجھی جاتی ہیں۔
ان دونوں حکمرانوں کی تاریخی مثالیں واضح کرتی ہیں کہ اسلامی تاریخ کی شخصیات اور حکومتوں کا جائزہ محض ان کی کلامی نسبت کی بنیاد پر نہیں لیا جانا چاہیے، بلکہ ان کے عقائد، اعمال، عدل و انصاف، دینی خدمات اور مسلمانوں کی زندگیوں پر ان کے اثرات کو بھی پیشِ نظر رکھنا چاہیے۔
اس بحث کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ مسلمان اپنے اعتقادی اختلافات کی وجہ سے ایک دوسرے کی علمی، دینی اور تاریخی خدمات کو نظرانداز نہ کریں۔ امتِ مسلمہ کو ایسی عادلانہ حکومت کی ضرورت ہے جو لوگوں کے دین و دنیا کی حفاظت کرے، شریعت کے احکام نافذ کرے، مظلوموں کی حمایت کرے اور مسلمانوں کے امن و سلامتی اور جائز حقوق کے تحفظ کا ذریعہ بنے؛ خواہ اس کی قیادت سلطان محمد فاتح جیسے کسی ماتریدی کے ہاتھ میں ہو یا سلطان صلاح الدین ایوبی جیسے کسی اشعری کے ہاتھ میں۔
لہٰذا کوئی شخص اشعری ہو یا ماتریدی، اگر وہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلے کرتا ہے، ان کے دین و دنیا کی حفاظت کرتا ہے، ان کے دشمنوں سے دوستی نہیں رکھتا اور مسلمانوں کے خلاف ان کی حمایت نہیں کرتا، تو ایسا شخص اس نام نہاد سلفی سے ہزار بلکہ لاکھ درجے بہتر ہے جو شریعت کے احکام میں تحریف کرتا ہے، ان کی اصل صورت مسخ کرتا ہے، انہیں معطل کرتا ہے اور ان کے نفاذ میں رکاوٹ بنتا ہے، ظالم اور سرکش حکمرانوں کی حمایت کرتا ہے، دشمنانِ دین کے شانہ بشانہ کھڑا ہوتا ہے اور مسلمانوں کے ممالک اور وسائل پر یہود و نصاریٰ کا تسلط قائم کرنے کے لیے ان کی مدد کرتا ہے!
نتیجہ
مندرجہ بالا بحث سے واضح ہوتا ہے کہ ماتریدیت اسلامی عقائد کا ایک معروف کلامی منہج ہے، جس کا حنفی اعتقادی روایت سے گہرا تاریخی اور علمی تعلق ہے۔ اس منہج کے علماء نے اسلامی عقائد کے دفاع، تفسیر، حدیث، فقہ اور دیگر اسلامی علوم میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں، اگرچہ بعض کلامی مسائل میں ان کے اور دوسرے علماء کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔
یہ اختلافات علمی تنقید اور تحقیق کا موضوع بن سکتے ہیں، لیکن محض مسلکی نسبت یا کلامی اختلاف کی بنیاد پر ماتریدی علماء، اس عقیدے کے پیروکاروں یا امارتِ اسلامیہ اور طالبان کی عمومی تکفیر ضروری شرعی دلائل سے محروم ہے۔
لہٰذا علماء اسلام اور مختلف فکری مکاتبِ فکر کے درمیان اختلافات کا جائزہ لیتے وقت علمی انصاف، شرعی احتیاط اور باہمی احترام کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے؛ کیونکہ بے دلیل تکفیر اور مسلکی اختلافات کو بنیاد بنا کر مسلمانوں کے درمیان دشمنی اور تفرقہ پیدا کرنا امت کے اتحاد اور اسلامی اخوت کو نقصان پہنچاتا ہے۔


















































