۱۱۔ جدید علوم میں پسماندگی، جدید ہتھیاروں اور نئی ٹیکنالوجی کا فقدان
موجودہ دور میں مسلمانوں کی کمزوری کے اہم اسباب میں سے ایک جدید علوم اور نئی ٹیکنالوجی میں پسماندگی بھی ہے۔ گزشتہ ادوار میں اسلامی تعلیمی نظام ایسا تھا کہ اس میں دینی اور عصری علوم شانہ بشانہ پڑھائے جاتے تھے، اور دینی مدارس اور علمی مراکز معاشرے کو ہر فن کے بڑے علماء اور نامور ماہرین فراہم کرتے تھے۔ امام رازی، خوارزمی، ابن رشد، ابن سینا، البیرونی، فارابی، ابن الہیثم، ابوبکر رازی اور ابن خلدون جیسی عظیم شخصیات نہ صرف دینی علوم میں گہری بصیرت اور مہارت رکھتی تھیں بلکہ عصری علوم کے مختلف شعبوں میں بھی دنیا کے بے مثال علماء میں شمار ہوتی تھیں۔
لیکن آج مسلمانوں میں ایسے افراد بہت کم ہیں جو دینی اور عصری دونوں علوم میں گہری بصیرت اور تخصص رکھتے ہوں، اور صرف ایک محدود تعداد ہی اپنی صلاحیت، محنت اور کوششوں کے بل بوتے پر اعلیٰ علمی مقام تک پہنچ سکی ہے۔ دوسری جانب، جدید علوم اور سائنس کے تعلیمی مراکز سے فارغ ہونے والے بہت سے افراد مغرب کے فکری اور ثقافتی ماحول سے متاثر ہونے کے باعث دینی علوم سے کافی واقفیت نہیں رکھتے۔ بعض اوقات یہی لوگ، اس بات سے بے خبر ہوتے ہوئے بھی، اسلام کے دشمنوں کے مقاصد اور مفادات کی تکمیل کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔
اسی لیے مسلمانوں کی ایک بنیادی ضرورت یہ ہے کہ اپنے علاقوں میں معیاری تعلیمی مراکز قائم کریں، تاکہ ان میں دینی اور عصری علوم ایک ساتھ پڑھائے جائیں۔ اسی طرح ضروری ہے کہ ہر مسلمان اپنے زمانے کی ضروریات اور تبدیلیوں سے باخبر ہو اور ہر علاقے میں جدید علوم کے ماہرین تیار کیے جائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہر وہ مسلمان جو جدید علوم کے کسی بھی شعبے میں تعلیم حاصل کر رہا ہو، اسے دین کے ضروری علوم سے بھی واقف ہونا چاہیے۔ مزید برآں، جدید ہتھیاروں اور نئی ٹیکنالوجی کا فقدان بھی مسلمانوں کی کمزوری کے اہم اسباب میں شمار ہوتا ہے۔
دنیا میں اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ انسانوں کی برتری بڑی حد تک دنیاوی وسائل اور امکانات سے وابستہ ہوتی ہے۔ جو شخص زیادہ طاقت اور زیادہ وسائل رکھتا ہو، وہ اپنے مخالف پر غلبہ حاصل کرسکتا ہے، اور ان اہم وسائل میں سے ایک نئی ٹیکنالوجی کا حامل ہونا بھی ہے۔ انسانی تہذیب کی ترقی کے دوران ہر دور کی ضروریات کے مطابق وسائل اور ٹیکنالوجی استعمال کی جاتی رہی ہے؛ لیکن آج مسلمانوں کی کمزوری اور پسماندگی کے بڑے اسباب میں سے ایک یہ بھی ہے کہ وہ نئی ٹیکنالوجی اور جدید وسائل کے قافلے سے پیچھے رہ گئے ہیں۔
جب مسلمان طاقت اور ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے تھے تو کوئی دشمن اسلامی دنیا کو نقصان پہنچانے کی صلاحیت نہیں رکھتا تھا؛ لیکن آج جب مسلمان اس شعبے میں پیچھے رہ گئے ہیں تو دشمن ان پر غالب آگیا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ جل جلالہٗ مسلمانوں کو حکم دیتا ہے کہ وقت اور حالات کے تقاضوں کے مطابق اپنی پوری استطاعت اور قوت کے ساتھ طاقت اور وسائل مہیا کرنے کی کوشش کریں:
﴿وَأَعِدُّوا لَهُم مَّا اسْتَطَعْتُم مِّن قُوَّةٍ وَمِن رِّبَاطِ الْخَيْلِ تُرْهِبُونَ بِهِ عَدُوَّ اللَّهِ وَعَدُوَّكُمْ﴾ [الأنفال: ۶۰]
اے مسلمانوں! اپنے دشمنوں کے مقابلے میں اپنی پوری استطاعت اور قوت کے ساتھ ہر قسم کی طاقت تیار رکھو، خصوصاً جنگ کے لیے تیار گھوڑے، تاکہ اس کے ذریعے اللہ جل جلالہٗ کے دشمن اور اپنے دشمن کو خوف زدہ کرو۔
اسلام کی تاریخ بھی اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ مسلمانوں نے ہمیشہ اپنے زمانے کے جدید ترین وسائل سے فائدہ اٹھایا ہے۔ مثال کے طور پر اسلامی غزوات میں پہلی مرتبہ منجنیق استعمال کی گئی، جو اس وقت جنگی میدان میں ایک جدید ذریعہ تھا۔ اسی طرح تاریخی ذرائع سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں نے پہلی مرتبہ جنگی بحری جہاز تیار کیے اور انہیں اپنے دشمنوں کے خلاف مؤثر انداز میں استعمال کیا۔




















































