۲۱ ستمبر، بروز پیر صبح سویرے، پاکستانی فوجی رجیم کے جنگی طیاروں نے ایک بار پھر افغانستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی اور صوبہ کنڑ اور پکتیکا کے اضلاع نورگل اور برمل کے عام علاقوں کو نشانہ بنایا۔ نورگل میں ایک رہائشی مکان پر بمباری کے نتیجے میں ایک خاندان کے تین افراد شہید اور چار دیگر زخمی ہوئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب، پکتیکا کے ضلع برمل میں مزید دو حملے بھی کیے گئے، جن میں ایک میں ایک خالی مکان اور دوسرے میں ایک مقامی دکان کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ حملے افغان سرزمین پر پاکستانی فوجی جارحیت کے ایک طویل سلسلے کا حصہ ہیں جس میں گزشتہ چند ماہ کے دوران بے مثال شدت آئی ہے۔
جو چیز ان حملوں کو ایک عام فوجی کارروائی سے ممتاز کرتی ہے، وہ ان کی درستگی نہیں بلکہ ان کی بے رحمی اور بے مقصدیت ہے۔ پاکستانی فوجی رجیم کا دعویٰ ہے کہ اس کے اہداف ’’دہشت گرد مراکز‘‘ اور ’’مسلح افراد کے ٹھکانے‘‘ ہیں لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ نے متعدد مرتبہ تصدیق کی ہے کہ ان حملوں میں عام شہریوں اور رہائشی مکانات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ سب سے خونریز مثالوں میں سے ایک کابل میں منشیات کے عادی افراد کی بحالی کے ہسپتال پر حملہ تھا، جس میں چار سو سے زیادہ شہری مارے گئے، جسے اقوام متحدہ نے بھی ایک طبی مرکز کی ’’مکمل تباہی‘‘ کے طور پر تسلیم کیا۔ اب کنڑ اور پکتیکا میں حالیہ حملوں میں بھی وہی معروف طرزِ عمل دوبارہ دہرایا گیا ہے کہ گھروں پر بمباری، شہریوں کا قتل اور اس کے بعد خاموشی یا انکار۔
لیکن ان حملوں کو صرف ’’افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی‘‘ کے دائرے میں نہیں سمجھا جا سکتا۔ ان اندھی بمباریوں کے پیچھے ایک اور بھی تلخ حقیقت پوشیدہ ہے اور وہ یہ کہ پاکستانی فوجی رجیم کو اپنی داخلی سکیورٹی کے قیام میں سنگین مشکلات کا سامنا ہے۔
اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں سال کے جولائی میں کم از کم 112 پاکستانی سکیورٹی فورسز کے ارکان مسلح افراد کے حملوں میں مارے گئے، یہ جنوری 2023ء کے بعد ماہانہ ہلاکتوں کی بلند ترین سطح اور گزشتہ دس سے زائد برسوں میں دوسری بلند ترین سطح ہے۔ یہ اعداد و شمار ایک ایسی بے بس حکومت کی تصویر پیش کرتے ہیں جس نے قبائلی اور ڈیورنڈ کی فرضی لائن سے ملحقہ علاقوں میں اپنا کنٹرول کھو دیا ہے اور اب ایک وسیع سکیورٹی بحران کا سامنا کر رہی ہے۔
ایسی صورتِ حال میں افغان شہریوں پر حملہ طاقت کی علامت نہیں بلکہ کمزوری کا اعتراف ہے۔ پاکستانی فوجی رجیم، جو اپنی سرزمین پر مسلح افراد کو قابو کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا، کنڑ اور پکتیکا میں بے گناہ لوگوں کے گھروں پر بمباری کے ذریعے اپنی ناکامیوں سے داخلی سوچ توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ امارت اسلامیہ کے ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد، نے بھی اسی نکتے کی طرف اشارہ کیا ہے اور ان حملوں کو ’’پاکستان میں سکیورٹی کی ناکامیوں سے عوامی سوچ کو منحرف کرنے‘‘ کی کوشش قرار دیا ہے۔ یہ تجزیہ محض ایک پروپیگنڈا دعویٰ نہیں، بلکہ بحران زدہ رجیم کے ساتھ برتاؤ کی حقیقی صورتِ حال کی بنیاد پر ایک جائزہ ہے۔
ایک اور قابلِ توجہ موضوع اہداف کی نوعیت ہے۔ کنڑ کے ضلع نورگل میں حملے میں ایک رہائشی مکان مکمل طور پر تباہ ہوگیا اور تمام متاثرین علاقے کے رہائشی اور عام شہری تھے۔ پکتیکا کے ضلع برمل میں بھی اہداف میں ایک خالی مکان اور ایک پرانی دکان شامل تھے۔ اگر واقعی ہدف ’’دہشت گرد مراکز‘‘ تھے تو پھر کسی مقامی دکان یا خالی مکان پر بمباری کیوں کی جائے؟ یہ تضاد پاکستان کے حملوں میں ’’درستگی‘‘ کے دعوے کو سوالیہ نشان بناتا ہے اور ظاہر کرتا ہے کہ یہ اقدامات سب سے بڑھ کر داخلی ناکامیوں کی تلافی کے لیے ایک نمائشی کوشش ہیں۔
سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ یہ حملے عالمی برادری کی خاموشی یا نسبتاً بے پروائی میں کیے جا رہے ہیں۔ ایسے میں جبکہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے متعدد مرتبہ پاکستان کی جانب سے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزیوں کے بارے میں خبردار کیا ہے، تاہم ان خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے کوئی عملی دباؤ نظر نہیں آتا۔ اس بے عملی نے پاکستانی فوجی رجیم کو مزید دلیر کیا ہے اور اسے اپنی متضاد اور دوغلی پالیسی جاری رکھنے کی ترغیب دی ہے۔
مختصر یہ کہ پیر کی صبح کنڑ اور پکتیکا پر کیا جانے والا حملہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی نہیں تھا، بلکہ ایک فوجی رجیم کی جانب سے داخلی سکیورٹی کے قیام میں اپنی ناکامی کا کھلا اعتراف تھا۔ پاکستان جو اپنے شہروں میں مسلح افراد کو قابو کرنے میں ناکام رہا ہے، افغانستان میں لوگوں کے گھروں پر بمباری کرکے نہ اپنی سکیورٹی یقینی بنا سکتا ہے اور نہ اپنا کھویا ہوا اعتبار دوبارہ حاصل کر سکتا ہے۔ یہ حملے صرف ایک بات ثابت کرتے ہیں کہ کمزوری، جب ہتھیاروں کے ساتھ مل جائے، تو جرم میں بدل جاتی ہے۔ قابلِ ذکر ہے کہ امارت اسلامیہ افغانستان کے ترجمان نے اس حملے کو ’’جارحیت اور ظلم‘‘ قرار دے کر مذمت کی ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا ہے کہ افغان ان حملوں کا مناسب جواب دیں گے۔




















































