تاہم یہاں صلحِ حدیبیہ کے تناظر میں کچھ تاریخی حوالے بھی سامنے آ جائیں تو بات ثبوت کے ساتھ مزید نکھر جائے گی…
یوں کہ اگر ہم دوحہ معاہدے کی اس جنگ بندی کی شرط کو محض ایک سیاسی ضرورت سمجھنے کے بجائے سیرتِ طیبہ کے آئینے میں دیکھیں تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ اسلام کی حقیقی اشاعت اور وُسعت کا تعلق میدانِ جنگ سے زیادہ امن کے زمانے سے ہے۔
طالب علموں کے لیے تاریخِ اسلام کا یہ ایک حیران کن اور سبق آموز پہلو ہونا چاہیے کہ ‘صلحِ حدیبیہ کے بعد کے محض دو سالوں میں دعوتِ اسلام کو وہ بے مثال وُسعت ملی، جو اس سے قبل کے اٹھارہ سالہ صبر آزما دور اور خون ریز جنگوں کے باوجود ممکن نہ ہو سکی تھی۔’
اس تاریخی حقیقت کا سب سے بڑا دستاویزی ثبوت صلحِ حدیبیہ اور فتحِ مکہ کے موقع پر مسلمانوں کی تعداد کا تقابل ہے…
چناں چہ اگر ہم اسے تفصیل سے سمجھیں تو اسلامی تاریخ اور سیرتِ طیبہ کا گہرا مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اعلانِ نبوت سے لے کر صلحِ حدیبیہ تک کا دورانیہ عسکری اور سیاسی اعتبار سے غیر معمولی ہلچل کا حامل تھا۔
مکہ کے تیرہ سالہ دور میں مسلمان سخت ترین مظالم اور معاشی بائیکاٹ کے باوجود جنگ کی اجازت سے محروم رہے، لیکن ہجرتِ مدینہ کے بعد جب ایک باقاعدہ اسلامی ریاست کی بنیاد پڑی تو ‘دفاعِ وطنِ اسلامی’ اور فتنہ و فساد کے قلع قمع کے لیے جہاد کا حکم دیا گیا۔
چناں چہ مدینہ کی طرف ہجرت سے لے کر 6 ہجری تک کے اس پورے عرصے میں ہونے والی عسکری مہمات کی تفصیل ہمیں حیران کر دیتی ہے۔ کیوں کہ صلحِ حدیبیہ تک ہونے والی چھوٹی بڑی مہمات، جنہیں ‘غزوات’ اور ‘سرایا’ کہا جاتا ہے، کی مجموعی تعداد ساٹھ سے ستر کے درمیان بتائی جاتی ہے۔
ان میں سے تقریباً انیس وہ غزوات تھے، جن میں حضرت نبی کریم ﷺ بنفسِ نفیس شریک رہے، جب کہ چالیس سے پچاس کے قریب وہ سرایا تھے، جو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی قیادت میں مختلف اطراف کو روانہ کیے گئے۔
بدر، احد اور خندق جیسے بڑے معرکے اسی دور کی یادگار ہیں، جب مسلمانوں کو اوسطاً ہر دوسرے یا تیسرے ماہ کسی نہ کسی دفاعی پیش رفت یا فوجی مہم کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا۔ لہذا یہ مسلسل بے چینی، اضطراب اور جنگی حالت کا ایک طویل دور تھا۔
ان تاریخی حقائق سے اِس پہلو کو مزید تقویت ملتی ہے کہ جنگ کی دھوپ میں اسلام کی دعوت و اشاعت کا کام کتنا کٹھن ہوتا ہے۔ ذرا غور کیجیے کہ اعلانِ نبوت سے شروع ہو کر ہجرتِ مدینہ تک کے تیرہ سال اور صلح حدیبیہ تک کے چھ سالوں کو شامل کر کے مجموعی طور پر اٹھارہ سال کی مسلسل جدوجہد اور ساٹھ سے زائد عسکری مہمات کے باوجود صلحِ حدیبیہ کے وقت تک مسلمانوں کا لشکر تقریباً صرف پندرہ سو افراد پر مشتمل تھا۔
تاہم جب اس معاہدے کی بدولت جنگ کی تلخیاں امن کی مصلحتوں میں بدلیں تو صلحِ حدیبیہ سے فتح مکہ تک کے صرف دو سال کے مختصر عرصے میں اسلام قبول کرنے والوں کی ایسی بہار آئی کہ فتحِ مکہ کے موقع پر اسلامی لشکر کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کر چکی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اٹھارہ سالوں میں جتنے لوگ مسلمان ہوئے، اس سے چھ گنا زیادہ لوگ امن کے صرف دو سالوں میں حلقہ بگوشِ اسلام ہوئے۔
یہ اعداد و شمار اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ اسلام کی فکری اور تمدنی اشاعت کے لیے ‘امن’ اُن درجنوں جنگوں سے کہیں زیادہ مؤثر ثابت ہوا، جو ہجرت سے صلح حدیبیہ کے درمیانی عرصے میں ہوئیں۔
امن نے لوگوں کو وہ ذہنی سکون اور موقع فراہم کیا کہ وہ اسلام کے معاشی، سماجی اور اخلاقی نظام کو قریب سے دیکھ اور اسے سمجھ سکیں، جو جنگ کے شور اور تلواروں کی جھنکار میں تقریبا خاصا مشکل تھا۔
لہذا ہم نے بالکل ابتدا میں جو بنیاد سامنے رکھی تھی کہ ‘اسلام میں جنگ محض ایک وقتی ضرورت ہے، جب کہ امن ایک مستقل اور حقیقی مقصد ہے، تاکہ انسانیت اپنی فلاح کا راستہ تلاش کر سکے’، وہ بنیاد یہاں اپنی حقانیت تسلیم کرا رہی ہے۔
اسی لیے امام ابنِ شہاب زہری اور علامہ ابنِ ہشام جیسے جید مورخین فرماتے ہیں کہ ‘اسلام میں صلحِ حدیبیہ سے بڑی کوئی فتح نہیں ہوئی۔ کیوں کہ جب تلواریں نیام میں چلی گئیں اور لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے، مکالمہ کرنے اور اسلام کے نظامِ زندگی کو قریب سے سُننے اور سمجھنے کا موقع ملا تو ہر ذی شعور انسان اس کی حقانیت کا قائل ہو گیا۔’
اسی امن کے دور کی فکری برتری کا نتیجہ تھا کہ حضرت خالد بن ولید اور حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما جیسی عبقری شخصیات اور عرب کے وہ بڑے دماغ… جو برسوں سے اپنی توانائیاں اسلام کی مخالفت میں صرف کر رہے تھے، اس نظام کی اخلاقی اور تمدنی خوب صورتی دیکھ کر مسلمان ہو گئے۔
قرآنِ کریم نے اسی صلح کو ‘فتحِ مبین’ (واضح فتح) قرار دیا۔ کیوں کہ یہ زمین جیتنے کے بجائے دل جیتنے کا آغاز تھا… جب مکہ کے مشرکین اور دیگر قبائل نے مسلمانوں کو محض ایک ‘جنگجو گروہ’ کے بجائے ایک ‘منظم ریاست’ اور ‘بہترین تَہذیب’ کے طور پر دیکھا تو ان کے ذہنوں میں موجود تعصبات کے بت پاش پاش ہو گئے۔
یعنی انسانیت کا جہنم سے بچ کر جنت میں جانے کا سفر شروع ہو سکا…
چناں چہ اوپر مذکور اعداد و شمار اس حقیقت کی اٹل گواہی دیتے ہیں کہ امن کا زمانہ اسلام کی اشاعت کے لیے جنگ کے مقابلے میں کہیں زیادہ سازگار ہوتا ہے۔ کیوں کہ امن میں ‘اعلیٰ اذہان’ کو غور و فکر کا موقع ملتا ہے اور ریاست اپنی معاشی و اخلاقی قوت سے وہ انقلاب برپا کر سکتی ہے، جو بارود سے ممکن نہیں ہوتا…!




















































