آج کے دور میں خانہ جنگی کا خدشہ اور علمائے کرام کا کردار:
موجودہ دور میں جب بھی جابر ریاستی نظام کے خلاف مسلح مزاحمت کی بات ہوتی ہے تو پاکستان اور دیگر مسلم ممالک کے اکثر علمائے کرام کی طرف سے ایک بڑا خدشہ یہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ:
‘اس سے ملک میں خانہ جنگی، انارکی اور فتنہ پھیلے گا۔’
اس خدشے کی بنیاد پر اکثر اوقات ایسی تحاریک کو روکنے پر زور دیا جاتا ہے۔
لیکن اگر مذکورہ علمائے کرام کے اس مبینہ خوف اور خدشے کا بنظرِ غائر جائزہ لیا جائے تو ایک دردناک حقیقت سامنے آتی ہے۔ جب علماء محض خانہ جنگی کے خوف سے ہر قسم کی مسلح مزاحمت، جو اپنی ذات میں جائز اور ضروری بھی ہو چکی ہو، کے خلاف فتوے دینا شروع کر دیتے ہیں تو غیر محسوس طریقے سے وہ مظلوم کا ہاتھ کاٹ کر ظالم کو اپنے مظالم جاری رکھنے کا غیر مرئی جواز مہیا کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
عموماً علمائے کرام کی طرف سے مظالم کے خلاف اٹھنے والی عسکری یا مبینہ پرتشدد تحاریک کو روکنے اور اِن کے خلاف فتاویٰ جاری کرنے کے پیچھے کچھ مخصوص شرعی، فقہی اور سیاسی اصول و اسباب کی ایسی تشریح ہوتی ہے، جسے یہ علمائے کرام مبینہ طور پر درست سمجھتے اور بنیاد بناتے ہیں۔
اِن فتاویٰ میں عموماً درج ذیل وجوہات کو بنیاد بنایا جاتا ہے:
اولاً، وسائل کی شدید قلت اور عدمِ قدرت (یعنی قدرت و طاقت کا نہ ہونا)۔
فقہِ اسلامی کے ایک بنیادی اصول ‘لا تکلیف إلا بما یطاق’ اور ‘استطاعت’ کی روشنی میں مذکورہ علماء کا موقف یہ ہوتا ہے کہ:
‘جب مظلوم فریق کے پاس جدید ریاستی مشینری، ایئر فورس اور وسائل کے مقابلے میں طاقت کا معقول توازن موجود نہ ہو تو ایسی غیر متوازن جنگ چھیڑنا شرعاً خود کو ہلاکت میں ڈالنے «وَلا تُلْقُوا بِأَيْدِيكُمْ إِلَى التَّهْلُكَةِ» کے مترادف ہے۔’
ثانیاً، ‘درء المفاسد مقدم علی جلب المصالح’ (یعنی نقصان کو روکنا فائدہ حاصل کرنے پر مقدم ہے) کا معروف فقہی قاعدہ۔
مذکورہ علماء کے نزدیک ‘اگر کسی ریاستی جابر یا جابر ریاست کے خلاف مسلح اقدام کے نتیجے میں حاصل ہونے والے ممکنہ عدل کے مقابلے میں عمومی تباہی، بستیوں کی بربادی اور بے گناہ شہریوں کی اموات کا اندیشہ زیادہ ہو تو شریعت کی نظر میں اِس اکبر الضرر (بڑے نقصان) کو روکنے کے لیے اقل الضرر (چھوٹے نقصان یعنی تکلیف دِہ صبر و سیاسی جدوجہد) کو ترجیح دی جاتی ہے۔’
ثالثاً، امارت و نظمِ اجتماعی کے فقدان کا اصول ہے۔
اِن علماء کے فتاویٰ میں یہ دلیل بھی نمایاں ہوتی ہے کہ جہاد یا مسلح مزاحمت کے لیے ایک منظم، متفقہ اور شرعی امارت (مرکزی قیادت) کا ہونا شرط ہے۔ بغیر کسی مرکزی شرعی نظم و ضبط کے انفرادی یا گروہی سطح پر مسلح کارروائیاں فتنہ، انارکی اور تحاریک کے بدعنوان یا غیر ملکی عناصر کے ہاتھوں ہائی جیک ہونے کا سبب بنتی ہیں۔
مذکورہ علمائے کرام اِنہی دینی اصولوں اور زمینی خطرات کو بنیاد بنا کر مظلوم قوم کو مسلح اقدامات سے روکنے کے فتاویٰ صادر کرتے ہیں، تاکہ اُن کی تشریح کے مطابق معاشرے کو ہمہ گیر تباہی سے بچایا جا سکے۔
اوپر مذکور علمائے کرام کے فتاویٰ اور اُن کی تشریحات کے تناظر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اگرچہ علمائے کرام کی طرف سے اِن قواعدِ فقہیہ کو بنیاد بنا کر مظلومین کو صبر اور مسلح تحریکوں سے پرہیز کی تلقین کی جاتی ہے، مگر اِس نکتہ نظر میں ایک انتہائی ہولناک اور منطقی تضاد بھی پایا جاتا ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ:
‘اگر خانہ جنگی جیسے ‘احتمالی فتنے’ سے بچنے کے لیے اِن فتاویٰ کی روشنی میں تحریکوں کو روک کر مظلومین کو گھروں میں بٹھا دیا جائے تو کیا اِس سے وہ ظلم رُک جاتا ہے، جو پہلے سے عملاً جاری ہے؟’
حقیقتِ حال یہ ہے کہ ظالم نظام اِن فتاویٰ کے بعد ظلم سے باز نہیں آتا، بلکہ وہ اپنے سیاسی و معاشی مفادات کے لیے مسلسل قتل و غارت گری، غیر قانونی گرفتاریوں، بے گناہوں پر فضائی و عسکری حملوں، ظالمانہ ٹیکسوں اور عدالتی ڈھونگ کا سلسلہ جاری رکھتا ہے۔ حتیٰ کہ یہی جابر قوتیں خود اِنہی علمائے کرام کو ٹارگٹ کلنگ اور تشدد کا نشانہ بناتی ہیں، جس کے تلخ شواہد تاریخی اور حالیہ ریکارڈ پر موجود ہیں۔
یہاں سب سے بڑا فکری مغالطہ یہ جنم لیتا ہے کہ:
‘خانہ جنگی صرف ایک خدشہ یا اندیشہ ہے، جو ابھی واقعہ نہیں ہوا۔ جب کہ ریاست کا ظلم ایک بر سرِ زمین اور روزمرہ کا عمل اور حقیقت ہے۔’
چناں چہ ملک کو انارکی اور تباہی کی طرف دھکیلنے والی اصل چیز مظلوم کا ردِعمل (مسلح مزاحمت) نہیں، بلکہ ظالم کا وہ بنیادی ایکشن اور عمل ہے، جو وہ سالہا سال سے بلا خوف و خطر کر رہا ہوتا ہے۔
یہاں علمائے کرام کی طرف سے خانہ جنگی اور معاشرتی تباہی کا جو خدشہ پیش کیا جاتا ہے، اس حوالے سے خانہ جنگی اور معاشرتی تباہی کے حقیقی اسباب کو شرعی اور معروضی و منطقی تناظر میں سمجھنا بھی ضروری ہے۔
چناں چہ حقیقت اور معروضی نظر سے دیکھا جائے تو کسی ملک کو خانہ جنگی اور تباہی کی طرف دھکیلنے والی اصل چیز مظلوم کی دفاعی جدوجہد نہیں، بلکہ ظالم کا مسلسل اور بے لگام ظلم ہوتا ہے۔ نظامِ عالم اور ریاستوں کے ثبات کو تباہ کرنے والی بنیاد حکمرانوں کا جبر، ناانصافی، رشوت ستانی پر مبنی عدالتی ڈھونگ، تھانوں کا ظالمانہ نظام، جابرانہ ٹیکس اور عوام کو غربت کی دلدل میں دھکیل کر خود عیاشیاں کرنا ہے۔
شریعتِ اسلامیہ کا یہ عالم گیر اصول ہے کہ ظلم معاشروں کی جڑوں کو کھوکھلا کر کے فتنہ و فساد کو جنم دیتا ہے۔
قرآنِ مجید خود اعلان فرماتا ہے کہ زمین میں فساد اور بربادی کا سبب ظالموں کے ناہنجار اعمال اور ناانصافیوں پر مبنی سرگرمیاں ہیں۔
جیسا کہ قرآنِ مجید کی سورۃ الروم کی آیت 41 میں درج ہے کہ:
«ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُم بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ.»
ترجمہ: ‘خشکی اور تری (یعنی پورے زمین و آسمان کی فضا) میں فساد اور بربادی لوگوں کے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں (ظلم، گناہوں اور ناانصافیوں) کی وجہ سے پھیل گئی ہے، تاکہ اللہ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے، شاید کہ وہ (ظلم اور گناہ سے) باز آ جائیں۔’
قرآن و سنت، کتبِ فقہ یا تعبیراتِ شریعت میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا کہ:
‘مظلوم کا شرعی اور جائز دفاع ملک کو انارکی یا خانہ جنگی کی طرف لے جاتا ہے۔’
اگر مظلومین کی نیت اور مقصد صرف ظلم کا خاتمہ اور انصاف کا قیام ہو تو اِس کی مسلح مزاحمت حقیقت میں ملک کو مزید تباہی اور خانہ جنگی سے بچانے کا اخلاقی و دفاعی طریقہ کار بن جاتی ہے۔
اصلی فتنہ وہ ظلم ہے، جو سالہا سال سے بلا خوف جاری ہے… نہ کہ وہ ردِعمل، جو اِس ظلم کو روکنے کے لیے وجود میں آتا ہے۔
جب تک اِس بنیادی حقیقت کو تسلیم نہیں کیا جائے گا، تب تک نہ علماء کے فتاویٰ کا حقیقی مقصد پورا ہوگا اور نہ ہی مظلوم کے درد کا سدا بہار مداوا ممکن ہو سکے گا۔
لہذا جب علمائے کرام صرف ردِعمل کو حرام یا ممنوع قرار دے کر خود بھی خاموش بیٹھ جاتے اور مظلوموں کو بھی خاموش بیٹھنے کی ترغیب دیتے ہیں تو مظلوموں کی نظر میں وہ غیر محسوس طور پر ظالم کے اِس ظالمانہ تسلسل اور اس کے جاری مظالم کو مزید کھلی چھٹی اور تحفظ فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔
علمائے کرام کے نزدیک اگر اصل خدشہ یہ ہے کہ تحریک ہائی جیک ہو کر خانہ جنگی بن جائے گی تو اِس کا شرعی اور عقلی حل مزاحمت کو روکنا نہیں، بلکہ اِس کی زمامِ کار (قیادت) کو خود اِنہی متقی اور باصلاحیت علمائے کرام کے ہاتھوں میں لینا ہے!
جب علماء آگے بڑھ کر خود اِس ردِعمل کی اصلاح اور قیادت کریں گے تو نہ تحریک ہائی جیک ہوگی اور نہ ہی ملک انارکی کا شکار ہوگا، بلکہ ظلم کی اصل جڑ (ریاستی جبر) پر کاری ضرب لگے گی۔




















































