پاکستان، امارتِ اسلامیہ پر یہ الزام عائد کرتا ہے کہ ’’وہ اپنے بچوں کو عسکری ماحول اور جہادی ذہنیت کی طرف دھکیل رہی ہے۔‘‘ بظاہر یہ بے جا شور شرابا بچوں کے تحفظ کے دلکش بہانے کے تحت اٹھایا جا رہا ہے، لیکن جب راولپنڈی کے اس واویلے کو اس کے اپنے کردار کے آئینے میں دیکھا جائے تو حقیقت واضح ہو جاتی ہے۔ یہ کسی عالمی اصول یا اخلاقی قدر کی پاسداری نہیں، بلکہ امارتِ اسلامیہ افغانستان سے کینے اور محض مخالفت کا ایک نیا حربہ ہے۔
اگر افغانستان میں کم عمر بچے کسی اجتماع یا تعلیمی ادارے میں فوی لباس پہن کر آئیں، اپنے ملک کی دفاعی ذمہ داریوں کے بارے میں باتیں سنیں اور عزم کریں کہ مستقبل میں وہ اپنے اسلامی ملک کے محافظ بنیں گے، تو پاکستانی فوج کے ذرائع ابلاغ اور سفارتی مشینری فوراً حرکت میں آ جاتی ہے۔ اچانک اس عمل کو ’’بین الاقوامی جرم‘‘ اور ’’عسکری ذہنیت کی تشکیل‘‘ قرار دے دیا جاتا ہے اور پوری دنیا میں اس پر واویلا شروع ہو جاتا ہے۔
لیکن اس راولپنڈی میں مقیم فوجی حکمران حلقے سے، جو خود کو مظلوم ظاہر کرتا ہے، ایک بار یہ سوال کیا جائے: ’’اگر بچوں میں اسلامی ملک کی حفاظت اور دفاع کا جذبہ پیدا کرنا جرم ہے تو پاکستان کی فوج خود اس جرم سے کیسے بری الذمہ ہو سکتی ہے؟‘‘ پاکستانی فوج کئی دہائیوں سے پاکستان کے ننھے معصوم بچوں کو اپنی فوجی چھاؤنیوں اور پریڈوں میں بلاتی ہے، انہیں فوجی لباس پہناتی ہے، ان سے جنگی ترانے گنواتی ہے اور ملک کے دفاع کے نام پر عسکریت پسندی کا سبق دیتی ہے۔ پاکستان کے درجنوں کیڈٹ کالجوں اور فوجی اسکولوں کا پورا نظام اسی ایک نکتے پر قائم ہے کہ بچوں کو بچپن ہی سے فوجی ماحول سے جوڑ دیا جائے۔
اگر راولپنڈی کے زیرِ سایہ بچوں کا فوجی لباس پہننا ’’حب الوطنی‘‘ اور ’’قومی شعور‘‘ ہے، تو ہندوکش کے خطے میں افغان بچوں کی جانب سے اپنی سرحدوں اور دین کی حفاظت کی بات کرنا اچانک ’’انتہا پسندی‘‘ کیسے بن گیا؟ کیا دنیا کے تمام اخلاقی اصول اور قوانین بدنامِ زمانہ راولپنڈی کی سرحدوں کے ساتھ تبدیل ہو جاتے ہیں؟ پاکستانی فوج کا اصل مسئلہ اسلامی نظام سے ہے!
اگر غور کیا جائے تو اصل تکلیف افغان بچوں کے فوجی لباس یا تربیت سے نہیں، بلکہ اصل درد یہ ہے کہ افغانستان اپنے بچوں کی تربیت ایک خودمختار اسلامی نظام کے زیرِ سایہ کر رہا ہے۔ اسلام میں تربیت صرف بلوغت تک پہنچنے، یا جدید جمہوریت کے مطابق اٹھارہ سال کی عمر کو پہنچنے کے بعد شروع نہیں ہوتی، بلکہ بچپن ہی سے بچے کے ذہن میں اخلاق، عبادات اور سماجی ذمہ داریوں کے بیج بوئے جاتے ہیں۔ جس طرح بچے کو سات سال کی عمر میں نماز کا حکم دیا جاتا ہے، اسی طرح اسے اپنی معاشرت اور اسلام کے دفاع کی بنیادی ذمہ داریوں کا احساس بھی دلایا جاتا ہے۔
اگر پاکستان کے تعلیمی نظام کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے بچوں سے کہے کہ جب تم بڑے ہو جاؤ گے تو فوج یا دیگر سکیورٹی اداروں میں اپنے ملک کا دفاع کرو گے، تو اگر افغان بچہ اپنے دین، اقدار اور ملک کی حفاظت کی بات کرے، اس پر ’’مجرمانہ ذہنیت کی تشکیل‘‘ کا ٹھپہ لگانا راولپنڈی کی فکری بدنیتی کے سوا کچھ نہیں۔ اگر بچے کے ذہن میں دفاع کا جذبہ بیدار کرنا بین الاقوامی جرم ہے تو دنیا کا ہر فوجی نظام اپنے تعلیمی ڈھانچے ختم کرنے پر مجبور ہوگا۔
تربیت اور عملی فوجی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔ امارتِ اسلامیہ نے کبھی کسی بچے کو مسلح کارروائی یا عملی جنگ میں استعمال نہیں کیا۔ اگر اسلام آباد کے پاس اس کے خلاف کوئی ثبوت ہے تو اسے دنیا کے سامنے پیش کرے۔ صرف کابل کی کسی فوجی تقریب میں بچوں کو دیکھ کر اس پر ’’جنگی جرم‘‘ کا ٹھپہ لگانا ایک گندے سیاسی بیانیے کے سوا کچھ نہیں۔
تاریخی مثالوں کے حوالے سے کہا جا سکتا ہے کہ غزوۂ بدر میں حضرت معاذ اور حضرت معوذ بن عفراء رضی اللہ عنہما جیسے بچوں کی شرکت، جنہوں نے ابوجہل کو قتل کیا، اسلام کی عظیم دفاعی تاریخ کا حصہ ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ کم عمری اور قومی ذمہ داری کے تعلق کو جدید مغرب یا پاکستان کے سیاسی نقطۂ نظر سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ صرف ’’جہاد‘‘ کے مقدس لفظ سے اسلام آباد کی فوجی قیادت کا خوف ان کے اپنے سیاسی خوف کو ظاہر کرتا ہے۔
پاکستانی فوج تضادات سے بھری تلخ تاریخ رکھتی ہے!
پاکستانی فوج کا یہ واویلا، چیخ و پکار اور آہ و زاری اس وقت محض ایک مضحکہ خیز تماشا بن جاتی ہے جب اس کا اپنا داغ دار ماضی اس کے سامنے آ جائے۔ پشاور کے اے پی ایس اسکول کے سانحے جیسے دردناک واقعات کے بعد پاکستانی فوج نے اسی تعلیمی نظام اور بچوں کو اپنے دفاعی بیانیے کے لیے بڑے پیمانے پر استعمال کیا۔ بچوں سے جنگی ترانے گنوائے گئے، انہیں فوجی تشہیری فلموں میں حصہ دیا گیا اور اسکولوں کے بچوں کو اس فوج کی حمایت کے بیانیے کا ترجمان بنا دیا گیا جسے بنگلہ دیش میں شکست ہوئی تھی۔
تو سوال یہ ہے کہ کیا راولپنڈی کی مرضی کے مطابق ’’ملک کے دفاع‘‘ کی تعلیم حلال ہے، لیکن افغان بچوں کی جانب سے اپنے ملک کے ’’دفاع‘‘ کا ذکر کرنا بھی حراما ہے؟
پاکستانی فوج کی اصل صورتِ حال کو امریکہ کی مدد اور سہولتیں فراہم کرنے کی داغ دار تاریخ نے سیاہ کر رکھا ہے۔ افغانستان کے خلاف راولپنڈی کے اس تازہ مؤقف کو محض ایک سفارتی اعتراض سمجھنا نادانی ہے۔ درحقیقت، یہ ایک خوفناک، عیارانہ اور منافقانہ سازش ہے جو افغانستان کو ایک بار پھر عالمی سطح پر بدنام اور ایک اسٹریٹیجک خطرہ ثابت کرنا چاہتی ہے۔
پاکستان کے تربیت یافتہ اور پروردہ حلقے ناکام کوشش کر رہے ہیں کہ عالمی برادری کو یہ باور کرایا جائے کہ افغانستان میں انتہاپسندی کے تربیتی مراکز سرگرم ہیں، تاکہ افغانستان کے خلاف، کسی بھی بیرونی یا فوجی اقدام کے لیے دنیا کے سامنے جواز فراہم کیا جا سکے۔ یہاں پاکستانی فوج کے اسٹریٹیجک کردار کے بارے میں براہِ راست اور سخت سوال اٹھانا نہایت ضروری ہے کہ کیا پاکستان واقعی افغان بچوں کے حقوق کی پروا کرتا ہے؟ ہرگز نہیں!
تاریخ گواہ ہے کہ ماضی میں جب بھی عالمی قوتوں نے افغانستان کی سرزمین کو تباہ کرنے کے لیے بارود کی آگ بھڑکانے کا منصوبہ بنایا، اسی پاکستانی فوج اور انٹیلی جنس اداروں نے امریکی بمبار طیاروں کو فضائی راستے، لاجسٹک تعاون اور انٹیلی جنس سہولتیں فراہم کیں۔ وہ پاکستانی فوج جس نے افغان بچوں کے سروں پر بم برسانے کے لیے اڈے اور سہولتیں فراہم کیں، آج افغان بچوں کے حقوق کی ’’علم بردار‘‘ بننے کا ڈھونگ رچا رہی ہے۔
آج جب افغان عوام اسلامی نظام کے زیرِ سایہ آزادی اور خودمختاری میں زندگی بسر کر رہے ہیں، پاکستان ایک بار پھر وہی پرانا کھیل کھیل رہا ہے، تاکہ خطے میں اپنے فوجی صنعتی ڈھانچے کی مالی معاونت اور بیرونی امداد کے بند ہوتے نلکوں کو دوبارہ کھولا جا سکے۔
حق بات تلخ ہوتی ہے!
اسلام آباد اور راولپنڈی کو افغانستان کے خلاف زہر اگلنے سے پہلے اپنے گریبان میں جھانکنا چاہیے۔ انہیں اپنے تعلیمی اداروں، فوجی اکیڈمیوں اور ان پروگراموں کا حساب دینا چاہیے جو بچوں کو فوج پرستی کے عمل میں شامل کرتے ہیں۔
اگر آپ کے اپنے ملک میں وطن کے دفاع کا تصور ’’حب الوطنی‘‘ ہے تو ڈیورنڈ لائن کے اس پار اسے ’’انتہاپسندی‘‘ کا نام دینے کی گندی جسارت نہ کریں۔ اور اگر واقعی آپ کا ضمیر بیدار ہو گیا ہے اور اصول یہ ہے کہ بچوں کو فوجی ماحول سے دور رکھا جانا چاہیے، تو سب سے پہلے یہ قانون اپنے ملک اور اپنے کیڈٹ کالجوں میں نافذ کریں۔
ورنہ دنیا کو یہ تلخ سوالات کرنے کا پورا حق ہے:
۱۔ کیا راولپنڈی کے پالیسی ساز واقعی بچوں کے مستقبل کے بارے میں فکر مند ہیں، یا صرف افغان بچوں کی آزادانہ تربیت نے ان کی راتوں کی نیند اڑا رکھی ہے؟
۲۔ اعتراض بچوں کی تربیت پر ہے، یا اس بات پر کہ افغانستان آپ کا دست نگر بننے کے بجائے اسلامی اقدار کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے؟
۳۔ سب سے اہم یہ کہ جو عمل پاکستان کی فوج کے لیے ’’حب الوطنی‘‘ ہے، وہی عمل افغان عوام کے لیے ’’دہشت گردی‘‘ کیسے بن جاتا ہے؟
۴۔ اور اس سے بھی اہم یہ کہ کیا افغانستان کے خلاف پاکستانی فوج کے اس بیانیے کا مقصد یہ ہے کہ ایک بار پھر عالمی قوتوں کو خطے میں مداخلت کا جواز فراہم کیا جائے، مجاہدین کو اسلام کے دشمنوں کے ہاتھوں گرفتار کروایا جائے اور عافیہ صدیقی جیسی ماؤں اور بہنوں کو بیچ کر ڈالر کمانے اور مفید سہولت کاری کی تاریخ دہرائی جائے؟
جب تک پاکستانی فوج ان دوہرے معیارات کو ختم نہیں کرتی، اس کا ہر اعتراض سیاسی ریاکاری، دوغلے پن اور افغانستان کے خلاف انسان اور اسلام دشمن قوتوں کی جانب سے جنگ کی آگ کو مزید بھڑکانے کی ایک عیارانہ کوشش سمجھا جائے گا۔




















































