دنیا خواہ کتنی ہی ترقی کر جائے، چاند پر شہر اور رہائشی بستیاں تعمیر کر لے، مصنوعی ذہانت سے لیس بغیر پائلٹ کے طیارے تیار کر لے اور مصنوعی سیاروں کے ذریعے زمین کے ایک ایک چپے کی نگرانی کرنے لگے، لیکن جنگ کا ایک اصول اب تک تبدیل نہیں ہوا؛ وہ یہ کہ منظم فوجیں شاید روایتی جنگیں جیت سکتی ہیں، مگر گوریلا جنگ کے جذبے سے سرشار قوموں کو کبھی شکست نہیں دے سکتیں۔
گوریلا جنگ محض جنگ لڑنے کی ایک حکمتِ عملی نہیں، بلکہ زندگی گزارنے کا ایک خاص انداز ہے۔ یہ ایسی جنگ ہے جس میں اسلحے سے زیادہ عزم و بہادری، ٹیکنالوجی سے زیادہ جغرافیائی محلِ وقوع اور منظم فوج سے زیادہ عوامی قوت مؤثر ہوتی ہے۔ اس حقیقت کی سب سے نمایاں مثال افغانستان ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی عالمی طاقت افغانستان کو ہمیشہ کے لیے اپنے تسلط میں نہیں لا سکی۔ سب سے پہلے برطانوی استعمار آیا، وہ سلطنت جس کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ اس کی قلمرو پر سورج غروب نہیں ہوتا، لیکن افغانستان کی اس پہاڑی قوم کے ساتھ تین جنگوں میں اسے ایسی شکست اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا کہ آج تک اسے فوجی تاریخ کی پیشانی پر ایک سیاہ داغ کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔ یہ برطانوی سلطنت کی تاریخ کی سب سے بڑی شکستوں میں سے ایک تھی۔
اس کے بعد سوویت یونین آیا، وہ اُس زمانے کی عالمی طاقت تھی جو امریکہ کو بھی آنکھیں دکھاتی تھی، لیکن تقریباً دس سال تک اسی ٹوٹی چپلیں پہنے، غریب اور محدود وسائل رکھنے والے مجاہدین کے ہاتھوں اسے سخت جنگ اور مسلسل نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ بالآخر اس نے افغانستان سے اپنی فوجیں واپس بلا لیں اور کچھ ہی عرصے بعد خود سوویت سلطنت بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گئی۔
اس کے بعد ایک اور عالمی طاقت میدانِ جنگ میں کود پڑی، امریکہ اور نیٹو، جو دنیا کی جدید ترین فوجی ٹیکنالوجی سے لیس تھے، جن کے پیچھے ۵۲ ممالک کا اتحاد کھڑا تھا اور جنہوں نے جنگ پر کھربوں ڈالر خرچ کیے۔ لیکن ان تمام وسائل کے باوجود بالآخر انہیں بھی اسی گوریلا جدوجہد کے سامنے شکست تسلیم کرنے پر مجبور ہونا پڑا اور وہ رات کی تاریکی میں بگرام کے فوجی اڈے کو چھوڑ کر نکل گئے۔ ’’اسی وجہ سے افغانستان کو سلطنتوں کا قبرستان کہا جاتا ہے۔‘‘
اب سوال یہ ہے کہ وہ قوت کیا ہے جس نے دنیا کی تین بڑی طاقتوں کو شکست سے دوچار کیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ نہ کوئی خاص ہتھیار ہے اور نہ ہی جدید ٹیکنالوجی، بلکہ اپنے پہاڑوں اور اپنی سرزمین سے محبت، موت سے نہ ڈرنے اور غلامی سے نفرت کا وہ جذبہ ہے جو افغان بچہ ماں کی گود ہی سے اپنے اندر سمو لیتا ہے۔
ان تین عالمی طاقتوں کی عبرت ناک شکستوں کے بعد اب چوتھی طاقت نے بھی اسی خواب کو پورا کرنے کی کوششیں ایک نئی شکل میں شروع کر دی ہیں۔ اس نے مختلف چالیں اور حربے آزمائے، لیکن الحمدللہ تعالیٰ، اب تک اس کی ہر کوشش ناکامی اور نامرادی سے دوچار ہوئی ہے۔ پہلے مرحلے میں اس نے کوشش کی کہ جو کام باہر سے نہیں ہو سکا، وہ داعش کے نام سے اندر ہی سے انجام دیا جائے۔ اسی مقصد کے لیے داعش نے اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لیے بہت ہاتھ پاؤں مارے، لیکن افغانوں نے داعش کے نیٹ ورک کو اتنی تیزی سے کچل دیا اور اس کی جڑیں اس طرح اکھاڑ پھینکیں کہ پورے خطے میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ آج پورے افغانستان میں داعش کا نام و نشان تک باقی نہیں رہا۔
جب زمینی حربہ ناکام ہو گیا تو پاکستان نے فضائی حملے کرنے اور ان میں کامیابیاں حاصل کرنے کے دعوے شروع کر دیے۔ کبھی وہ کہتا کہ اس نے فلاں وادی میں اتنے دہشت گرد مار دیے ہیں اور کبھی دعویٰ کرتا کہ اس نے فلاں علاقے میں تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے سربراہ کو ہلاک کر دیا ہے، اور اس طرح کے دوسرے دعوے بھی کرتا رہا۔ لیکن دنیا کے کسی بھی آزاد ذرائع ابلاغ نے ان دعوؤں کو ثابت کرنے کے لیے نہ کوئی قبر پیش کی اور نہ ہی کوئی ٹھوس ثبوت فراہم کیا۔ اس کے برعکس، بین الاقوامی ذرائع ابلاغ نے ان دعوؤں کو جھوٹ کا پلندہ قرار دیا اور پاکستان کے دوہرے کردار کو عالمی سطح پر بے نقاب کیا۔ نتیجتاً یہ حربہ بھی مکمل طور پر ناکام ہو گیا۔
اس کے بعد اس نے کوشش کی کہ اجرت پر کام کرنے والے باغی کھڑے کیے جائیں اور ان کے ذریعے افغانستان میں داخلی فتنہ و فساد اور بدامنی پیدا کی جائے، یعنی دنیا کو یہ دکھایا جائے کہ گویا افغانستان کے اپنے عوام اپنی ہی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں۔ اسی مقصد کے لیے اس نے مختلف چہروں کو سامنے لایا، لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ ایک مرکز مکمل طور پر تباہ ہو گیا اور دوسرے گروہ کے سربراہ کو اس کے درجنوں مسلح ساتھیوں سمیت زندہ گرفتار کر لیا گیا۔ یہ گوریلا جنگ کے اصولوں سے ان کی ناواقفیت کی واضح مثال تھی، کیونکہ اجرت پر لڑنے والے لوگ کبھی بھی ایسی قوم کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتے جو اپنے فکر و عقیدے پر مضبوطی سے قائم ہو۔
اب آخری سازش، خیبر پختونخوا میں گورنر راج کا نفاذ:
جب تمام بیرونی اور اندرونی حملے اور سازشیں ناکام ہو گئیں تو اب انہوں نے خیبر پختونخوا میں عوامی حکومت کو بھی ختم کر دیا اور گورنر راج نافذ کر دیا۔ یاد رکھیے! یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں، بلکہ ایک سوچی سمجھی جنگی حکمتِ عملی ہے۔ وسائل اور قدرتی ذخائر پر قبضے کے علاوہ، اس اقدام کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ پورے سرحدی علاقے میں داعش خراسان کو دوبارہ منظم کیا جائے، اس کے لیے محفوظ ٹھکانے بنائے جائیں، تربیتی مراکز کھولے جائیں اور پھر اسے خیبر پختونخوا کے تمام علاقوں میں پھیلا دیا جائے۔
اس منصوبے کے کئی مقاصد ہوں گے۔ پہلا یہ کہ ان افراد کو ان مقامی مسلح گروہوں سے لڑایا جائے گا جو پاکستانی فوج کے خلاف سرگرم ہیں۔ دوسرا یہ کہ ملک کے اندر ان سیاسی، مذہبی اور عوامی شخصیات کے خلاف استعمال کیا جائے گا جو حق کی بات کرتی ہیں۔ اس کے بعد تکفیری فتوؤں کے ذریعے ان کے خلاف کارروائیوں کو جواز فراہم کیا جائے گا، لیکن اس منصوبے کے پیچھے موجود لوگ خود کو ہر قسم کی ذمہ داری سے بری الذمہ قرار دیں گے اور حتیٰ کہ ان واقعات کے بارے میں سخت مذمتی بیانات بھی جاری کریں گے۔
لیکن ان تمام اقدامات کے پیچھے سب سے بڑا اور آخری ہدف افغانستان ہے، یعنی ان تمام نیٹ ورکس کو مضبوط کیا جائے گا تاکہ انہیں ایک بار پھر افغانستان کی اسلامی حکومت کے خلاف استعمال کیا جا سکے اور ملک میں بدامنی اور عدم استحکام پیدا کیا جا سکے۔
لیکن اس بزدل دشمن کو چاہیے کہ اپنے ان تمام منصوبوں پر عمل درآمد کرنے سے پہلے ذرا سوچ لے کہ وہ کس کے ساتھ جنگ کے میدان میں اتر رہا ہے!
یاد رکھیے! یہ جنگ صرف افغانستان کی ایک برسرِ اقتدار حکومت کے خلاف نہیں اور نہ ہی صرف ایک حکومتی ڈھانچے کے خلاف ہے، بلکہ یہ ایک مکمل فکر، عقیدے اور عوامی جذبے کے خلاف جنگ ہے۔
افغانستان میں فوج اور عوام دو الگ الگ حقیقتیں نہیں، بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو نام ہیں۔ وہاں ہر گھر ایک مورچہ ہے، ہر ماں کی گود ایک گوریلا جنگجو کی تربیت گاہ ہے اور ہر بچہ مستقبل کے ایک مجاہد کی حیثیت سے پروان چڑھتا ہے۔
اگر یہ کہا جائے کہ افغانستان کے تمام باشندے درحقیقت ایک گوریلا فوج ہیں تو یہ مبالغہ نہیں، بلکہ عین حقیقت ہوگی۔
اسی لیے یہ منصوبہ بھی دوسرے ناکام منصوبوں کی طرح خود ہی دم توڑ دے گا، کیونکہ تاریخ نے بارہا ثابت کیا ہے کہ آپ افغانستان پر حملہ تو کر سکتے ہیں، لیکن افغانستان کو فتح کرنے اور اس سرزمین کو اپنا تابع بنانے کا خواب کبھی حقیقت میں نہیں بدل سکتے۔



































