مردانگی، غیرت اور جان نثاری کا درخشاں ستارہ، مضبوط ایمان، گہرے اخلاص اور پختہ عزم کا مالک، راہِ حق کا سچا مجاہد اور جہادی فکر رکھنے والا نوجوان، شہیدِ سعید حافظِ قرآن محمد ذاکر ولد سردار آقا، آپ کا تعلق ولایتِ لوگر کی ضلع چرخ کے گاؤں بندوکی سے تھا۔ آپ نے ۱۳۸۱ ہجری شمسی میں اس فانی دنیا میں ایک ایسے دیندار، مجاہد اور باعمل گھرانے میں آنکھ کھولی، جس کے ماحول پر دینِ اسلام کی محبت، جذبۂ جہاد اور تقویٰ کی روح پوری طرح سایہ فگن تھی۔
تعلیم:
محمد ذاکر کا ابھی بچپنا ہی تھا کہ ان کا دل اللہ تعالیٰ کے کلام سے وابستہ ہو گیا۔ انہوں نے اپنے گاؤں اور ضلع کے مقامی مدرسے میں داخلہ لیا اور نہایت شوق، لگن اور محبت کے ساتھ دینی علوم کا حصول شروع کیا۔ انہوں نے حفظِ قرآنِ کریم پر خصوصی توجہ مرکوز رکھی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اس عظیم نعمت سے سرفراز ہوئے اور حافظِ قرآن کا معزز لقب حاصل کیا۔
شہید محمد ذاکر میدانِ جہاد میں:
شہید محمد ذاکر ایک ایسے خانوادے میں پروان چڑھے تھے جس کی تاریخ جہاد، ایثار اور قربانی سے عبارت تھی۔ ان کے دو بڑے بھائی، عبدالہادی اور گل اکبر، ان سے پہلے امریکی قابض افواج کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے اپنی جانیں اللہ کی راہ میں قربان کر چکے تھے اور شہادت کے بلند مرتبے پر فائز ہوئے تھے۔ ان کی ان قربانیوں نے محمد ذاکر کے دل میں جذبۂ جہاد کو مزید مہمیز دی۔
اسی جذبے کے زیرِ اثر، اگرچہ ان کی عمر زیادہ نہ تھی، تاہم وہ مجاہدین کے قافلے میں شامل ہوگئے اور اپنے رفقا کے شانہ بشانہ میدانِ جدوجہد میں اتر آئے۔ عسکری صلاحیتوں میں اضافہ کرنے کے لیے انہوں نے ضلع چرخ میں عسکری تربیت حاصل کی، جس کے نتیجے میں ان کا عزم پہلے سے زیادہ مضبوط ہوا، تجربہ وسیع ہوا اور ان کی عسکری مہارتوں میں نمایاں نکھار پیدا ہوا۔
شہید محمد ذاکر نہایت مدبر، بہادر، باحیا اور اعلیٰ اخلاق کے حامل نوجوان تھے۔ دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم، جری اور فولادی عزم کے مالک تھے، لیکن اپنے ساتھیوں اور دوستوں کے ساتھ نہایت نرم خو، مہربان اور مشفقانہ برتاؤ رکھتے تھے۔ وہ ہمیشہ اپنے ذمہ داران سے درخواست کرتے رہتے کہ انہیں محاذِ جنگ کی پہلی صف میں بھیجا جائے۔ جب انہیں اجازت مل جاتی تو ان کے چہرے پر مسرت کی جھلک نمایاں ہو جاتی، اور اگر کسی مصلحت کے تحت انہیں پیچھے رہنا پڑتا تو ان کا دل افسردہ ہو جاتا اور آنکھیں اشک بار ہو جاتیں۔
جب ولایتِ ننگرہار کے بعض علاقوں میں خوارج کا فتنہ سر اٹھانے لگا اور انہوں نے نہتے اور مظلوم عوام کو اپنے ظلم و ستم کا نشانہ بنایا، تو ملک کے مختلف صوبوں سے مجاہدین اس فتنے کے خاتمے کے لیے وہاں پہنچے۔ ولایتِ لوگر کے مجاہدین کے قافلے کے ساتھ شہید محمد ذاکر بھی ننگرہار روانہ ہوئے۔
حافظِ قرآن محمد ذاکر ایک دلیر، بے خوف اور ثابت قدم مجاہد تھے۔ ننگرہار میں ضلع شیرزاد کے ذمہ داران نے خوارج کے مورچوں پر ایک اہم حملے کا منصوبہ بنایا، جس کے لیے مخصوص مجاہدین کا انتخاب کیا جا رہا تھا۔ اس موقع پر محمد ذاکر بار بار اصرار کرتے ہوئے کہتے تھے: "مجھے بھی اس دستے میں شامل کریں، مجھے اس میدان سے محروم نہ رکھیں۔”
یہ خواہش وقتی جذبات کا اظہار نہ تھی، بلکہ گہرے ایمان، پختہ یقین اور غیر متزلزل عزم کی ترجمان تھی۔ بالآخر مسلسل اصرار کے بعد ذمہ داران نے انہیں اس کارروائی کے سب سے سخت، نازک اور خطرناک محاذ کے لیے منتخب کر لیا؛ ایسا محاذ جہاں ہر قدم خطرات سے گھرا ہوا تھا اور ہر لمحہ موت کی آہٹ سنائی دیتی تھی۔
داعش کے جنگجو بلند و بالا اور دشوار گزار پہاڑوں کی چوٹیوں پر مضبوط مورچوں میں تعینات تھے اور انہوں نے نہایت پیچیدہ دفاعی حصار قائم کر رکھے تھے۔ رات تقریباً دس بجے مجاہدین دشمن کی جانب پیش قدمی کرتے ہوئے پہاڑوں کا رخ کرنے لگے۔ رات قریب ایک بجے شہید محمد ذاکر اپنے تین ساتھیوں کے ہمراہ سب سے آگے بڑھتے ہوئے دشمن کے انتہائی مضبوط اور اہم مورچوں تک جا پہنچے۔ ان کے قدم ثابت، دل پُراعتماد اور نگاہیں کامیابی پر مرکوز تھیں۔ ان نہایت کٹھن لمحات میں انہوں نے بے مثال جرأت اور فولادی عزم کے ساتھ دشمن کے مورچوں پر یورش کی اور یکے بعد دیگرے اہم مورچے فتح کر لیے۔ جو کام بظاہر ناممکن دکھائی دیتا تھا، وہ ان کے ہاتھوں ممکن ہو گیا، اور دشمن کے کئی اہم ٹھکانے اس کے قبضے سے نکل گئے۔
اسی دوران ایک شدید جھڑپ میں ان کا ایک ساتھی معمولی زخمی ہو گیا۔ اس منظر نے حافظ محمد ذاکر کے دل میں ایک منفرد آرزو پیدا کر دی۔ انہوں نے دل ہی دل میں کہا: "کاش! میں بھی اللہ کی راہ میں ایسا زخمی ہوں کہ خدمت کے میدان سے محروم نہ ہو جاؤں؛ ایسا زخم جو رکاوٹ بننے کے بجائے خدمتِ اسلام کی علامت ہو۔”
چند ہی دن گزرے تھے کہ تقدیر نے گویا ان کی اس دعا کو قبول کر لیا۔ ایک شدید جھڑپ میں، دن کے آخری پہر، وہ بھی معمولی زخمی ہوئے۔ تاہم یہ زخم ایسا تھا جس نے نہ انہیں میدانِ جنگ سے پیچھے ہٹایا اور نہ ہی ان کے عزم میں کوئی کمزوری پیدا کی، بلکہ ان کے حوصلے اور استقامت میں مزید اضافہ کر دیا۔
بعد ازاں وہ ضلعِ شیرزاد پہنچے، جہاں جنگ اپنے عروج پر تھی۔ انہوں نے صفِ اوّل میں رہ کر غیر معمولی شجاعت کے ساتھ جنگ لڑی۔ مجاہدین کی کارروائیوں کے نتیجے میں کئی اہم مورچے فتح ہوئے اور دشمن کے متعدد اہم مراکز تباہ کر دیے گئے۔ اس کے بعد ایک نہایت سخت اور فیصلہ کن معرکہ برپا ہوا، جس میں دشمن کے متعدد افراد مارے گئے اور محمد ذاکر بھی زخمی ہوئے۔ ذمہ داران کی ہدایت پر انہیں علاج کی غرض سے ولایتِ لوگر منتقل کیا گیا۔ صحت یاب ہونے کے بعد وہ ایک بار پھر پوری استقامت کے ساتھ میدانِ جدوجہد میں واپس آئے۔ اس مرتبہ انہوں نے پہلے سے زیادہ تجربے اور مضبوط عزم کے ساتھ حرارتی دوربین اور لیزری آلات کی مدد سے دشمن کی چوکیوں پر مؤثر حملے کیے، جن کے نتیجے میں متعدد دشمن اہلکار ہلاک ہوئے۔
شہادت
بالآخر جمعہ کے بابرکت دن، ۲۵/۱۱/۱۳۹۹ھ ش، دوپہر تقریباً تین بجے، وہ گھڑی آ پہنچی جس کی تمنا انہوں نے مدتوں اپنے دل میں بسائے رکھی تھی۔ اس وقت وہ محاذِ جنگ پر مردانہ وار لڑتے ہوئے دشمن کے ایک اہلکار کو جہنم واصل کر چکے تھے اور دشمن کی چوکی کے بالکل قریب ڈٹے ہوئے تھے کہ ان کی دیرینہ آرزو پوری ہوگئی۔
شہید محمد ذاکر نے جامِ شہادت نوش کیا اور اپنے محبوب ربِّ ذوالجلال سے جا ملے۔ وہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے…
مگر ان کا نام غیرت، ایمان اور ایثار کی تاریخ میں ہمیشہ کے لیے امر ہوگیا، اور ان کی حیاتِ مبارکہ شجاعت، اخلاص اور قربانی کا ایک درخشاں باب بن گئی۔
نحسبه كذلك والله حسيبه



















































