داعش خوارج سے بھی کیسے آگے نکل گئی؟
"خوارج کے بدخصلت جانشین” وہ تعبیر ہے جسے آج بہت سے علماء، محققین، تجزیہ نگار اور یہاں تک کہ داعش کی حریف جہادی جماعتیں بھی اس گروہ کی توصیف کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ یہ محض ایک سادہ لقب نہیں، بلکہ ایک گہری تاریخی اور فکری حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ اگرچہ داعش خود کو "خلافت اسلامیہ” کی بحالی اور "خالص اسلام” کی واپسی کا علمبردار قرار دیتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس نے خوارج کی اسی گمراہ کن فکر کو جدید ذرائع اور نئے انداز میں دوبارہ زندہ کیا ہے۔
اس گروہ کو "بدخصلت جانشین” اس لیے کہا جاتا ہے کہ اس نے نہ صرف خوارج کی گمراہ راہ کو اختیار کیا، بلکہ بہت سے پہلوؤں میں ان سے بھی آگے بڑھ کر سبقت حاصل کی۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے، خوارج تاریخِ اسلامی کا پہلا گروہ تھا جس نے مسلمانوں کی تکفیر کی اور ان کا خون حلال قرار دیا۔ داعش نے بھی یہی راستہ اپنایا، مگر نہایت وسیع اور زیادہ خطرناک پیمانے پر۔
خوارج اپنے دور میں صرف حضرت علی رضی اللہ عنہ اور ان کے پیروکاروں کی تکفیر کرتے تھے، لیکن داعش نے نہ صرف شیعوں بلکہ اپنے نظریے سے اختلاف رکھنے والے اہلِ سنت کی ایک بڑی تعداد کی بھی تکفیر کی۔ اس نے صوفیوں کو مشرک قرار دے کر ان کے سر قلم کیے، اخوانیوں کو مرتد قرار دے کر قتل کیا، روشن خیال طبقے کو کافر قرار دے کر ختم کیا، بلکہ دیگر جہادی جماعتوں کو بھی اسلام کے دائرے سے خارج قرار دے دیا۔
ابومحمد المقدسی، جنہیں عالمی جہادی فکر کی نمایاں شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے، بغدادی کی خلافت اور داعش کے بارے میں کہتے ہیں: "اللہ کی قسم! میں نے داعش سے بڑھ کر کہیں اور اتنے چور، ڈاکو، خائن اور دھوکے باز نہیں دیکھے۔” وہ مزید کہتے ہیں: "یہ خوارج سے بھی بدتر ہیں۔” ایک معروف جہادی مفکر کے یہ بیانات خود اس حقیقت کا واضح ثبوت ہیں کہ داعش، دیگر جہادی جماعتوں کی نظر میں بھی سب سے زیادہ انتہا پسند اور گمراہ گروہ بن چکی تھی۔
داعش اور قدیم خوارج کے درمیان بنیادی فرق ذرائع اور طریقۂ کار کا ہے، نہ کہ فکر اور بنیادوں کا۔ خوارج تلوار اور خطابت کے ذریعے لڑتے تھے، جبکہ داعش خودکار ہتھیاروں، توپ خانے، سیٹلائٹ، انٹرنیٹ اور اعلیٰ سینمائی معیار کی ویڈیوز کے ذریعے اسی پرانی گمراہ فکر کو پھیلاتی ہے۔ داعش کی خباثت کا ایک اور پہلو اس کے تشدد کے انداز اور ریاست قائم کرنے کے دعوے میں پوشیدہ ہے۔ اس گروہ نے "خوف پھیلانے کی حکمتِ عملی” اختیار کی اور بے گناہ اور نہتے لوگوں کے قتل کو ایک منظم اور باقاعدہ سلسلے میں تبدیل کر دیا۔
اجتماعی سرقلمی، قیدیوں کو زندہ جلانا، ذہنی مریضوں کے ہسپتالوں میں انہیں آگ میں جھونک دینا، انسانوں کو لوہے کے پنجروں میں بند کر کے پانی میں ڈبونا، اور ان تمام جرائم کو اعلیٰ سینمائی معیار کے ساتھ ریکارڈ کر کے نشر کرنا، ایسے مظالم ہیں جن کی مثال خوارج کی تاریخ میں بھی نہیں ملتی۔ خوارج نے کبھی آج کے مفہوم میں کسی "ریاست” کے قیام کا دعویٰ نہیں کیا تھا، لیکن داعش نے "خلافت” کے نعرے کے تحت خود کو پورے عالمِ اسلام کا جائز حکمران قرار دیا اور سرزمین، دارالحکومت، انتظامی ڈھانچے اور سرکاری ذرائع ابلاغ رکھنے والی ایک "ریاست” کا اعلان کیا۔ ایک باغی تحریک سے ریاست کے دعوے تک کا یہ سفر، معاصر خوارج کی نمایاں خصوصیات میں شمار ہوتا ہے۔
قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ القاعدہ، جو خود ایک جہادی جماعت ہے، نے داعش سے اپنے تمام تنظیمی تعلقات منقطع کر دیے اور اسے "سرکش” اور "جہاد کے درست راستے سے ہٹی ہوئی” جماعت قرار دیا۔ القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری نے بھی داعش کو بے مثال انتہا پسندی اور وسیع پیمانے پر تکفیر کے باعث تنقید کا نشانہ بنایا۔ یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ داعش انحراف کے ایسے مرحلے تک پہنچ چکی تھی کہ دیگر جہادی جماعتیں بھی اس کے ساتھ رفاقت اور تعاون پر آمادہ نہ تھیں۔ امارت اسلامیہ افغانستان نے بھی اسی حقیقت کو سمجھتے ہوئے خود کو ان "بدخصلت جانشینوں” کے خلاف جدوجہد کی پہلی صف میں کھڑا کیا اور عملی طور پر یہ دکھایا کہ داعش اسلام کے لیے تباہی، خونریزی اور بدنامی کے سوا کچھ نہیں لائی۔
آخر میں، وہ چیز جس نے داعش کو خوارج کا "بدخصلت جانشین” بنایا، یہ ہے کہ اس نے تکفیر کے دائرے کو خوارج سے بھی زیادہ وسیع کر دیا؛ یعنی ایک محدود گروہ کی تکفیر سے بڑھ کر امتِ مسلمہ کے ایک بڑے حصے کی تکفیر تک جا پہنچی۔ اس نے جنگ کے ذرائع میں تلوار سے جدید ٹیکنالوجی تک ترقی کی، تشدد کے انداز میں روایتی جنگ سے منظم اور میڈیا کے ذریعے پھیلائے جانے والے وحشیانہ جرائم تک کا سفر طے کیا، اور اپنے مقاصد میں بغاوت سے ریاست سازی اور عالمی خلافت کے دعوے تک پہنچ گئی۔ یہی ہمہ گیر انتہا پسندی اور انحراف داعش کو تاریخ میں خوارج کی فکر کے سب سے خطرناک اور بے رحم احیا شدہ نمونے کے طور پر پیش کرتا ہے۔




















































